’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء رہنما اور پاکستان بارکونسل کے رکن حامد خان کا کہنا ہے کہ بارکونسل کے سات ارکان کی طرف سے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو آئینی چیف جسٹس تسلیم کرنے کا فیصلہ پاکستان بار کونسل کی اکثریت کا نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پریس کانفرنس میں پاکستان بار کونسل کے رکن میاں اسرارالحق کے علاوہ ہائی کورٹ کے صدر انورکمال اور سیکریٹری رانا اسد اللہ خان بھی موجود تھے۔ پاکستان بارکونسل ملک کے وکلاء کی نمائندہ تنظیم ہے جس کے کل ارکان کی تعداد بائیس ہے۔ ان بائیس ارکان میں وزیر قانون فاروق ایچ نائیک بھی شامل ہیں جبکہ سینیٹر سردار لطیف کھوسہ اٹارنی جنرل بننے کی وجہ سے بارکونسل کی رکنیت سے الگ ہوچکے ہیں۔ خیال رہے کہ پاکستان بار کونسل کے چوبیس ستمبر کے اجلاس میں بائیس میں سے سات ارکان نے شرکت کی اور ایک قرار داد کے ذریعے چیف جسٹس پاکستان عبدالحمید ڈوگر کے لیے تعریفی کلمات کہے گئے۔ اور سپریم کورٹ کی عمارت میں بار کونسل کے لیے دفاتر کمرے الاٹ کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا گیاہے۔ اسی اجلاس میں معزول ججوں سے دوبارہ حلف لے کر ان کی عدلیہ میں واپسی کا بھی خیر مقدم کیا تھا۔ حامد خان نےپریس کانفرنس میں کہا کہ چوبیس ستمبر کو ہونے والا اجلاس پاکستان بار کونسل کے سات ارکان کی درخواست پر بلایا گیا جبکہ سات ارکان نے اس اجلاس کو ماہ رمضان کی وجہ سے ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی لیکن اس کے باوجود اجلاس کیا گیا۔ ان کے بقول بارکونسل کے قواعد کے مطابق سات ارکان کی طرف سے اجلاس کی منسوخی کی درخواست پر یہ اجلاس ملتوی ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ماضی میں ماہ رمضان میں بار کونسل کا اجلاس طلب نہیں کیا گیا لیکن بارکونسل کے سات ارکان نے یہ اجلاس صرف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی چیف جسٹس کے عہدے پر تقرری کو جائز قرار دینے کی کوشش کے لیے طلب کیا تھااور اس مقصد کے لیے دیگر ارکان کی طرف سے اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کو نظرانداز کیا گیا۔ ان کے بقول اجلاس میں صرف صوبہ پنجاب سے سات ارکان نے شرکت کی جبکہ پنجاب سے دیگر چار ارکان کے علاوہ دوسرے صوبوں سے بار کونسل کے ارکان نے شرکت نہیں کی ہے۔ حامد خان نے وضاحت کی کہ پاکستان بار کونسل کے اٹھارہ ارکان کے متفقہ فیصلہ کے تحت پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہی ہیں اور بارکونسل جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس تسلیم نہیں کرتی۔ ایک سوال پر ان کا کہنا ہے افتخار محمد چودھری کو چیف جسٹس تسلیم کرنے کا فیصلہ اکثریت فیصلہ ہونے کی وجہ سے فعال اور برقرار ہے جبکہ سات ارکان کی طرف سے جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس تسلیم کرنے کے فیصلہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کے بقول جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی مخالفت میں منظور ہونے والی پاکستان بارکونسل کی ان قراردادوں پر نظرثانی یا انہیں منسوخ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عید کے بعد پاکستان بارکونسل کا اجلاس ہوگا۔ حامد خان نے بتایا کہ سردار لطیف کھوسہ کے اٹارنی جنرل بننے سے ان کی پاکستان بار کونسل کی نشست خالی ہوچکی ہے لیکن قواعد کے باوجود ایک مہینے سے پیر کلیم خورشیدکی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یوسف لغاری کے ایڈووکیٹ جنرل سندھ بننے اور امداد اعوان کے انتقال کی وجہ سندھ میں بھی دو نشستیں خالی ہیں ان پر نئے چناؤ نہیں کرائے گئے۔ حامد خان نے مطالبہ کیا کہ پیر کلیم خورشید کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے جبکہ سندھ سے خالی ہونے والی نشستیں پر نیا انتخاب کرایا جائے۔ واضح رہے کہ پاکستان بارکونسل کے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان کے کھوسہ گروپ اور واہلہ گروپ کے ارکان نے چیف جسٹس پاکستان عبدالحمید ڈوگر سے ملاقات بھی کی تھی۔ | اسی بارے میں مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز 16 August, 2008 | پاکستان وکلاء کا ہنگامی اجلاس طلب22 August, 2008 | پاکستان مشرف کے خلاف مقدمات کا مطالبہ22 August, 2008 | پاکستان ’ججوں کا فیصلہ پارلیمنٹ میں‘23 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی کیلئےملک گیر دھرنا27 August, 2008 | پاکستان پاکستان بھر میں وکلاء کا دھرنا ختم28 August, 2008 | پاکستان وکلاء کےدھرنے پر لاٹھی چارج 04 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||