BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 August, 2008, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان بھر میں وکلاء کا دھرنا ختم

وکلاء
اعتزاز احسن کی قیادت میں وکلاء نے پنجاب اسمبلی کے سامنے دیا
معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء نے پاکستان کے مختلف شہروں کی اہم شاہراہوں پر دھرنا دیا اور وکلاء رہنماؤں نے خطاب کیے۔

لاہور سے نامہ نگار عباد الحق: پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کی قیادت میں وکلاء نے پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک پر دھرنا دے دیا ہے۔ وکلاء شدید نعرہ بازی کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ مسلم لیگ نواز، تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور سول سوسائٹی کے افراد بھی شامل ہیں۔ اعتزاز احسن نے وکلاء کو سیاسی جماعتوں کے خلاف نعرہ بازی سے باز رہنے کو کہا ہے۔

تاہم مسلم لیگ نواز کا کارکن ’گو گورنر گو‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

اس سے قبل اعتزاز احسن نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی جدوجہد ججوں کو بحال کرانے کے لیے ہے نہ کہ دوبارہ تقرری کے لیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس ڈوگر بینظیر بھٹو کے چیف جسٹس نہیں ہو سکتے کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر پر دوبارہ جھنڈا لہرائیں گی۔

وکلاء نے جسٹس ڈوگر، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پی سی او ججز کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔

بدلتا وقت، بدلتے نعرے
یہ جو نئی بیماری ہے، زرداری ہے زرداری ہے
گھوڑوں کا جو بیوپاری ہے، زرداری ہے زرداری ہے
گو گورنر گو
عدلیہ کا کھلنائک، فاروق نائیک
آئین سے غداری، گو زرداری

اسلام آباد سے شہزاد ملک: اسلام آباد میں وکلاء نے زیرو پوائنٹ اور کشمیر ہائی وہ بلاک کر کے دھرنا دیا ہوا ہے اور شدید نعرہ بازی کر رہے ہیں۔ وکیل رہنما طارق محمود نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس دھرنے پر مجبور کیا گیا ہے کیونکہ یہاں پر تحریری معاہدے سے لوگ مکر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مملک میں سرمایہ کاری کیا آنی ہے جہاں آصف زرداری جیسا صدر ہو جو تحریری معاہدوں کا پاس نہیں کرتے۔ اور تمام معزول ججوں کی بحالی تک جدوجہد جاری رہے گی۔

وکلاء یہاں پر ’یہ جو نئی بیماری ہے، زرداری ہے زرداری ہے‘، گھوڑوں کا جو بیوپاری ہے، زرداری ہے زرداری ہے‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

کراچی سے ریاض سہیل: وکلاء کا ایک جلوس کراچی سٹی بار سے شروع ہوا اور ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیا ہوا ہے اور شدید نعرہ بازی کی جا رہی ہے۔ اس کی قیادت وکلاء رہنما منیر اے ملک اور رشید رضوی کر رہے ہیں۔ اس دھرنے میں وکلاء کی تعداد کم اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی جماعت زیادہ ہے۔

اس موقع پر جو نعرے لگا رہے ہیں ان میں ’عدلیہ کا کھلنائک، فاروق نائیک‘، ’آئین سے غداری، گو زرداری‘

پشاور سے دلاور خان وزیر : دھرنے میں وکلاء کے علاوہ سیاسی تنظیوں نے بھی حصہ لیا جس میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی شامل ہیں۔

وکلاء اور سیاسی تنظیوں کے کارکنوں نے پشاور ہائی کورٹ سے رحمان چوک تک مارچ کیا جہاں بعد میں انہوں نے سڑک پر دھرنا دیا۔ اس موقع پر وکلاء نے بینرز اور سیاسی تنظیوں نے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جس پر عدلیہ کی آزادی اور چیف جسٹس کے بحالی کے نعرے درج تھے۔

پشاور ہائی کورٹ بار ایسویشن کے صدر لطیف افریدی نے ایک قرار داد پیش کی جس میں فاروق ایچ نائیک کے بیان اور سندہ ہائی کورٹ میں دس ججوں کے حلف اٹھانے کے اقدام کی مزحمت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں دس ججوں کے حلف اٹھانے کا اقدام وکلاء کے تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کا دھرنے کا مقصد حکومت کو اپنا وعدہ یاد دلانا ہے جس میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ. تمام ججز اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اٹھارہ فروری کے مینڈٹ کا احترام کریں۔

 دھرنے کے آخر میں کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان کے نظریاتی دھڑے نے ایک بڑی ریلی نکالی اور وکلاء کے دھرنے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ نظریاتی دھڑے کی اس ریلی میں عدلیہ کی بحالی کے علاوہ اسامہ بن لادن، ملا محمد عمر اور ملا داد اللہ کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

وکلاء نے ڈسٹرک بار ایسوایشن کی عمارت پر ایک سیاہ جھنڈہ بھی لہرایا۔ ڈسٹرک بارایسوایشن کے صدر فضل الرحمن نے کہا کہ یہ جھنڈہ اس وقت تک موجود رہے گا جب تک تمام ججز بحال نہیں ہوتے۔

کوئٹہ سے عزیزاللہ خان: کوئٹہ میں وکلاء کا جلوس کچہری سے نکلا اور منان چوک پر دھرنا دیا ہے۔ ان کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی شامل تھے۔

وکلاء کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے کنوینر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب ملتوی کیے جائیں اور تمام ججوں کو فور طور پر بحال کیا جائے۔

منان چوک پر دھرنے کے دوران سیاسی جماعتوں خصوصاً پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ وکیل رہنما علی احمد کرد ایڈووکیٹ، باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ، ہادی شکیل ایڈووکیٹ اور دیگر نے ججوں کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ججوں کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ محمود خان نے کہا کہ اگر ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا تو اے پی ڈی ایم ان قوتوں کا ساتھ دے گی جو عدلیہ کو دو نومبر سنہ سو ہزار سات کی سطح پر لانے کے لیے جدوجہد کریں گی۔

اس دھرنے سے نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی بلوچستان نیشنل پارٹی کے حبیب جالب ایڈووکیٹ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ہے۔

دھرنے کے آخر میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان کے نظریاتی دھڑے نے ایک بڑی ریلی نکالی اور وکلاء کے دھرنے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ نظریاتی دھڑے کی اس ریلی میں عدلیہ کی بحالی کے علاوہ اسامہ بن لادن، ملا محمد عمر اور ملا داد اللہ کے حق میں نعرے لگائے گئے۔

اسی بارے میں
’دو چیف جسٹس نہیں ہوسکتے‘
27 August, 2008 | پاکستان
آٹھ ججوں کی تقرری بدھ کو؟
26 August, 2008 | پاکستان
نون لیگ کی علیحدگی کا آغاز
24 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد