BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 August, 2008, 06:21 GMT 11:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ ہائی کورٹ، آٹھ جج بحال

جسٹس انور ظہیر جمالی
سندھ ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالی
سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ معزول ججوں کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد انہوں نے بدھ کے روز گورنر ہاؤس میں حلف اٹھا لیا۔ ان ججوں کی تقرری کی سمری پر سابق صدر پرویز مشرف نے دستخط کردیے تھے۔

واضح رہے کہ ان ججوں کی تقرری کی سمری پر دستخط تو ہوگئے تھے لیکن مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کےدرمیان اختلافات کے باعث حکومت نے اس پر عمل درآمد روک لیا تھا۔



جسٹس انور ظہیر جمالی نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

وزرات قانون کی جانب سے بدھ کی صبح ان ججوں کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت جسٹس انور ظہیر جمالی کو سندھ ہائی کورٹ کا نیا چیف جسٹس مقرر کردیا گیا ہے۔

ایک دوسرے نوٹیفکیشن کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد اٹھائیس سے بڑھا کر چالیس کردی گئی ہے۔

سیکریٹری قانون آغا رفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ معزول ججز کی مرضی سے ان کی دوبارہ تقرری کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیشکش تمام ججوں کے لیے ہے اس میں کوئی بھی ’مائنس ون‘ فارمولا نہیں۔

انہوں نے کہا ’جلد تمام جج بحال ہوجائیں گے۔ جیسے جیسے آتے جائیں گے بحال ہوجائیں گے۔ اگر کوئی بحال نہیں ہونا چاہتا تو اس کی مرضی ہے کسی سے زبردستی نہیں کی جاسکتی جو چاہے گا وہ بحال ہوجائے گا۔‘

سیکریٹری قانون کے مطابق ججز کو دو نومبر والی سینیارٹی کے مطابق بحال کیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اپنا فرائض سنبھال لیئے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں ان آٹھ ججوں کے اضافے کے بعد ججوں کی کل تعداد چھبیس ہوگئی ہے۔

بحال ہونے والے جج صاحبان میں جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس ظفر شیروانی، جسٹس سلمان انصاری اور جسٹس عبدالرشید کلوڑ شامل ہیں۔

نامناسب بات نہیں
 ججوں کی دوبارہ تقرری پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ کچھ ججوں کا خیال تھا کہ حلف لینا چاہیئے اور کچھ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ مزید نقصان سے بچنے کے لیئے حلف لیا جائے۔ کچھ ساتھیوں نے مناسب سمجھا کہ حلف لیں اس میں ایسی کوئی نامناسب بات نہیں ہے۔
صبیح الدین احمد

ہائی کورٹ کے باقی معزول ججوں میں چیف جسٹس صبیح الدین، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس مشیر عالم، جسٹس مقبول باقر، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس ارشد سراج میمن شامل ہیں جبکہ جسٹس رحمت حسین جعفری ریٹائر ہوچکے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید رضوی نے اس اقدام کو حکومتی سازش قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ جج صاحبان اپنے ساتھیوں کو بیچ منجدھار میں چھوڑکر جا رہے ہیں یہ قدم وکلاء تحریک کے لیئے بھی اچھا نہیں ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد کا کہنا ہے کہ انہیں بھی دوبارہ تقرری کی پیشکش تھی مگر انہوں نے معذرت کی تھی کیونکہ اس پر قومی اتفاق رائے نہیں تھا۔

اپنے ساتھی ججوں کی دوبارہ تقرری کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ کچھ ججوں کا خیال تھا کہ حلف لینا چاہیئے اور کچھ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ ’یہ سمجھا جا رہا تھا کہ مزید نقصان سے بچنے کے لیئے حلف لیا جائے۔ کچھ ساتھیوں نے مناسب سمجھا کہ حلف لیں اس میں ایسی کوئی نا مناسب بات نہیں ہے۔‘

جسٹس صبیح الدین احمد کے مطابق جو مشترکہ مؤقف تھا کسی فرد کو آئین توڑنے کا حق نہیں پہنچتا اور برطرفی غیر آئینی تھی وہ ایشو اپنی جگہ پر قائم ہے۔ ’یہ حلف آئین کے تحت لیا گیا ہے تاہم برطرفی غیر آئینی ہی رہے گی۔‘

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان اطہر من اللہ نے ہمارے نامہ نگار احمد رضا کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ معزول ججوں کی بحالی افسوسناک اقدام ہے اور کہا کہ اس سے وکلاء کی تحریک اور زور پکڑے گی۔

ازسرنو تقرری
 ’ان ججوں نے ازسرنو تقرری کو قبول کر کے حلف لیا ہے۔ یہ بحالی نہیں ہے، بحالی تب ہوتی اگر تین نومبر 2007ء کو کئے گئے اقدامات کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیا جاتا اور ایک حکم نامے کے ذریعے تمام معزول ججوں کو بحال کیا جاتا۔ ان کی جو سمری گئی ہے وہ ازسرنو تقرریوں کے حوالے سے گئی ہے ورنہ سمری جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔
اطہر من اللہ

’ان ججوں نے ازسرنو تقرری کو قبول کر کے حلف لیا ہے۔ یہ بحالی نہیں ہے، بحالی تب ہوتی اگر تین نومبر 2007ء کو کئے گئے اقدامات کو غیرآئینی اور غیرقانونی قرار دیا جاتا اور ایک حکم نامے کے ذریعے تمام معزول ججوں کو بحال کیا جاتا۔ ان کی جو سمری گئی ہے وہ ازسرنو تقرریوں کے حوالے سے گئی ہے ورنہ سمری جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

انہوں نے کہا کہ وکلاء چند اشخاص کو ان کی تنخواہیں اور مراعات دلانے کی خاطر قربانیاں نہیں دی ہیں بلکہ یہ تحریک ایک اصول پر مبنی تحریک ہے کہ تین نومبر کو جو ناکام مارشل لاء لگا اسے وہ قوتیں قانونی حیثیت نہ دیں جو خود کو جمہوری قوتیں کہلواتی ہیں۔

اطہر من اللہ نے کہا کہ حکومت کو عوام کو مزید فریب نہیں دینا چاہیے۔ ’انہیں لوگوں کو سچ بتا دینا چاہیے اگر ان پر دباؤ ہے کہ وہ پرویز مشرف کے اقدامات کو صحیح قرار دیں۔ ورنہ اس سے جمہوری قوتوں اور جمہوریت کو نقصان ہوگا۔‘

اسی بارے میں
نواز شریف سے معذرت: زرداری
25 August, 2008 | پاکستان
حکمراں اتحاد، کب کیا ہوا
25 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد