BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کےدھرنے پر لاٹھی چارج

وکلاء
’بھٹو نہیں زرداری اے، غداری اے غداری اے‘: احتجاجی وکلاء کے نعرے

معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء نےسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کی قیادت میں جمعرات کے روز اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا۔

دھرنے کے دوران وکلاء کے ایک گروہ نے سپریم کورٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر وہاں تعینات پولیس نے وکلاء پر لاٹھی چارج کیا، جس سے چند وکلاء زخمی ہوئے۔

اس موقع پر وکلاء نے آصف علی زرداری، پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے ججوں، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ان نعروں میں دو نعرے یہ تھے۔

’پیسہ پھینک دیکھ مداری ہائے زرداری ہائے زرداری‘ اور دوسرا نعرہ یہ تھا ’بھٹو نہیں زرداری اے، غداری اے غداری اے‘۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے برسراقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے وکلاء تحریک میں شامل مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا گیا۔

اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ کے سامنے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کی وجہ سے وکلاء کی تحریک تھوڑی سست پڑ سکتی ہے لیکن رمضان کے بعد ایک بار پھر تحریک میں تیزی آئے گی تاہم ہر جمعرات کو وکلاء کی معمول کی ہڑتال جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دھرنے کی کال نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے سامنے دو گھنٹے کے مظاہرے کی کال تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ مظاہرے اخلاقی دباؤ ڈالنے کے لیے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ رمضان کے بعد وکلاء عوامی رابطہ مہم شروع کریں گے جس میں لوگوں کو افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے اعلی عدالتوں کے ججوں کی بحالی کے لیے متحرک کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھ لیں کہ اس تحریک کی وجہ سے صدر مشرف کو جانا پڑا۔

بلوچستان میں زندہ دفنائے جانے کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ آج اگر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہوتے اور بینظیر بھٹو ہوتیں تو سو گرفتاریاں ہو چکی ہوتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے واقعے کا کوئی ذکر ہی نہیں کر رہا۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ضرورت عوام کو ہے جو اگر آج چیف جسٹس ہوتے تو وہ بجلی کے نرخوں میں اضافے اور رمضان میں لگے سستے بازاروں میں بلیک کی جانے اشیاء کا از خود نوٹس لیتے۔

اس سے قبل معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف شدید نعرہ بازی ہوئی۔

ایک موقع پر اعتزاز احسن نے وکلاء سے آصف زرداری کے خلاف نعرے نہ لگانے سے منع کیا اور کہا کہ یہ احتجاج کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے۔ تاہم وکلاء نے اعتزاز احسن کی بات کو رد کرتے ہوئے آصف زرداری کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی۔

یاد رہے کہ گزشتہ جمعرات کو لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے بھی اعتزاز احسن نے وکلاء کو سیاسی جماعتوں کے خلاف نعرہ بازی سے باز رہنے کو کہا تھا۔

اس دھرنے میں شامل وکیل رہنما جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت ججوں کی بحالی کے حوالے سے اپنے ہی منشور کے خلاف ورزی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے یہ کہہ رہی تھی کہ ان معزول ججوں کی بحالی کے لیے ایک آئینی پیکج لایا جائے گا یا پھر قومی اسمبلی میں اس حوالے سے قرارداد پیش کی جائے گی لیکن حکمراں جماعت نے دونوں سے انحراف کیا۔انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے بعد دوبارہ حلف لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جمعرات کے احتجاج کے موقع پر شاہراہ دستور کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا تاہم سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کیبنٹ ڈویژن کے راستے سے پہنچایا گیا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی تاہم رینجرز کو کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے سٹینڈ بائی پر رکھا گیا تھا۔

لاہور سے عبادالحق کے مطابق اعلیْ عدلیہ کے معزول ججوں کی بحالی کے لیے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب میں وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور بار ایسوسی ایشنوں میں احتجاجی اجلاس ہوئے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے متفقہ طور ہائی کورٹ کے ان چار ججوں کے خلاف قرار داد منظور کی جہنوں نے دوبارہ حلف اٹھایا ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری ہائی کورٹ بار رانا اسد نے وزیر قانون فاروق نائیک کے اس بیان کی شدید مذمت کی جس میں وزیرقانون نے کہا تھا اگر جسٹس افتخار محمد چودھری دوبارہ حلف اٹھا لیں تو انہیں جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے ماتحت کام کرنا ہوگا۔

اجلاس میں ججوں کی بحالی کے طریقہ پر نکتہ چینی کی گئی اور سیکرٹری بار رانا اسد نے پیپلز پارٹی کے وکلا کو دعوت دی کہ اگر وہ اس سلسلہ میں کوئی وضاحت کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ تاہم اجلاس میں موجود پیپلز پارٹی کے کسی بھی وکیل نے اپنا موقف پیش نہیں کیا۔

اجلاس میں ججوں کی بحالی کے طریقہ کو ایک قرار داد کے ذریعے متقفہ طور پر مسترد کردیا گیا ۔

اجلاس میں دیگر قرار داد کے ذریعے متفقہ طور یہ مطالبہ کیا گیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کا آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت ٹرائل کیا جائے اور ملک میں اعلیْ عدلیہ کو دو نومبرسنہ دو ہزار سات کی پوزیشن پر بحال کیا جائے۔

اجلاس کے بعد وکلا جلوس نکالا جو پنجاب اسمبلی کےسامنے ختم ہوگیا۔

اسی بارے میں
’دو چیف جسٹس نہیں ہوسکتے‘
27 August, 2008 | پاکستان
آٹھ ججوں کی تقرری بدھ کو؟
26 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد