BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 August, 2008, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حلف غیر آئینی اقدام ماننے کےبرابر‘

اعتزاز احسن(فائل فوٹو)
’ضرورت پڑی تو وکلاء دوبارہ لانگ مارچ کی کال دے سکتے ہیں‘
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے لاہور اور سندھ ہائیکورٹ کے کچھ معزول ججوں کی طرف سے دوبارہ حلف اُٹھانے کے اقدام کو مایوس کُن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایسا کر کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007 کے اقدام کو تسلیم کر لیا ہے۔

سنیچر کو سپریم کورٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹس کے ان ججوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر حکومت اُن سے دوبارہ حلف لینے کے لیے چل کر اُن کے پاس گئی ہے تووہ صرف وکلاء کی تحریک کی ہی بدولت ممکن ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کو یہ توقع نہیں تھی کہ یہ جج صاحبان دس ماہ تک قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد دوبارہ حلف اُٹھانے پر رضامند ہو جائیں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اس سے پہلے بھی پی سی او ججز گزرے ہیں لیکن کسی حکومت نے بھی اُنہیں دوبارہ حلف لینے کے بارے میں رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلٰی عدالتوں کے دیگر جج بحال نہیں کیے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وکلاء دوبارہ لانگ مارچ کی کال دے سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ رمضان کے مہینے میں وکلاء دھرنا نہیں دیں گے البتہ چار ستمبر کو اسلام آباد میں وکلاء تنظیموں کے نمائندوں کا اجتماع ہوگا جس میں پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کے علاوہ وکلاء تحریک کے بارے میں بھی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 18 فروری کے عام انتخابات میں مشرف مخالف قوتوں کی کامیابی اور پھر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا عہدہ صدارت سے مستعفی ہونا یہ سب کچھ وکلاء تحریک کی ہی بدولت ہے۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ چھ ستمبر کو صدارتی انتخابات کے بعد جیتنے والے شخص سے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اُن سے حلف لیں گے تو اُس حلف کی کیا حثیت ہوگی تو انہوں نے کہا کہ وہ عبدالحمید ڈوگر کو آئینی چیف جسٹس نہیں مانتے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی ایک شخص کی جماعت نہیں ہے اور وہ پارٹی چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی میں چند لوگ اختلاف رائے رکھتے ہیں تو اُنہیں پارٹی میں رہنے دیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس نو سے بارہ اکتوبر تک اسلام آباد میں ہوگی جس کا افتتاح معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کریں گے۔

آدھے جج باقی ہیں
برطرف ججوں میں سے نصف کی بحالی ابھی باقی
ججوں کا حلف
سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کی حلف برداری
پاکستانی وکلاء (فائل فوٹو)ججوں کی بحالی
فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا: فاروق نائیک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد