BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 August, 2008, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ججوں کی بحالی کیلئےملک گیر دھرنا

صدر مشرف کے استعفے پر وکلاء میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آیا
پاکستان میں وکلاء معزول ججوں کو اعلان اسلام آباد کے تحت بحال نہ کرنے پر اٹھائیس اگست کو دو گھنٹوں کے لیے ملک گیر دھرنا دیں گے۔

دھرنا دینے کا فیصلہ ملک کے نمائندہ وکلاء پر مشتمل قومی رابطہ کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ کونسل کے فیصلے کی روشنی میں اعلان اسلام آباد کے تحت جج بحال نہ ہونے پر وکلاء ہفتہ وار احتجاج کے موقع پر ناصرف عدالتوں کا بائیکاٹ کریں گے بلکہ وکیل بار ایسوسی ایشنز میں ہونے والے احتجاجی اجلاسوں کے بعد جلوس نکالیں گے۔

کونسل کے فیصلے کے تحت اٹھائیس اگست کو ملک کی بارایسوسی ایشنز اپنے اپنے شہر کے اہم مقامات اور شاہرارہوں پر دھرنا دیں گی۔ وکیل ملک بھر میں بیک وقت بارہ بجے دوپہر سے دو بجے تک دھرنا دیکر سڑکوں کو عام ٹریفک کےلیے روک دیں گے۔

کونسل کے فیصلے کے تحت مقامی ٹریفک پولیس کے تعاون سے دھرنے کے دوران صرف سکول وین، ایمبولنس اور ڈاکٹروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے سات اگست کو اعلان اسلام آباد کے نام سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق سابق صدر پرویز مشرف کے موخذاے یا پھر ان کے مستعفیْ ہونے پر ججوں کو فوری طور پر بحال کردیا جانا تھا لیکن اس معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور اسی بنیاد پر حکمران اتحاد میں شامل ایک بڑی جماعت مسلم لیگ نون اتحاد سے الگ ہوگئی ہے۔

قومی رابطہ کونسل کے سربراہ اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر اعتزاز احسن لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں ایک جلوس کی قیادت کریں گے اور پنجاب اسمبلی کے سامنے فیصل چوک میں احتجاجی دھرنا دیں گے۔ لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن ایوان عدل کے قریب پی ایم جی چوک میں دھرنا دے گی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےسیکرٹری امین جاوید نے اپیل کی ہے کہ والدین وکلاء کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجیں تاکہ ان کو وکلاء احتجاج کی وجہ سے کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

راولپنڈی ہائی کورٹ بار کے صدر سردار عمصت اللہ کے بقول جڑاوں شہر کے وکیل زیرو پوائنٹ اور لیاقت چوک پر دھرنا دیں گے ۔

سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس ریٹائرڈ رشید اے رضوی نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹی کورٹس میں ہائی کورٹ بار اور ضلعی بار ایسوسی ایشنز کا مشترکہ اجلاس ہوگااور بعد ازں وکلاء ایک جلوس کی شکل میں ایم اے جناح روڈ پر آئیں گے اور کے ایم سی بلڈنگ کے سامنے دھرنا دیں گے۔

صوبہ سرحد میں بھی وکلاء نے احتجاجی دھرنے کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ پشاور ہائی کورٹ بار کے صدر عبدالطیف آفریدی کےمطابق وکلاء سرحد اسمبلی کی قریب اکٹھے ہونگے اور جسٹس چوک ٹی جی روڈ پر دھرنا دیں گے۔

دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کے وکلا بھی منان چوک جناح روڈ پر دھرنا دیں گے۔ وکیل رہنما باز محمد کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ اے پی ڈی ایم نے وکلاء کے دھرنے میں بھر پور شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ طلبہ، مزدور تنظیموں کے کارکنوں سمیت سول سوسائٹی کے ارکان بھی ان کے احتجاج میں شرکت کریں گے۔

خیال رہے کہ وکلا قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت اعلان اسلام آباد کے تحت جج بحال نہ ہونے پر بار ایسوسی ایشنز کی عمارت پر سوموار پچیس اگست سیاہ پرچم لہرائے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد