BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2008, 17:33 GMT 22:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عبدالحمید ڈوگر کے استعفے کا مطالبہ

حامد خان
وکلاء برادری نے بڑا واضح فیصلہ دیا ہے: حامد خان
پاکستان بار کونسل کے رکن اور وکلاء رہنما حامد خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نتائج کے بعد چیف جسٹس سپریم کورٹ عبدالحمید ڈوگر کو مستعفیْ ہونا چاہئے۔

انہوں نے یہ بات جمعرات کو معزول ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وکلاء تنظیم پاکستان بار کونسل کے فیصلے کی روشنی میں ملک بھر کے وکلاء ہر جمعرات کو تین نومبر کو معزول ہونے والے ججوں کی بحالی کے لیے یوم احتجاج مناتے ہیں ۔

حامد خان نے ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وکلاء برادری نے بڑا واضح فیصلہ دیا ہے اور حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے اوراگر حکمران اس کو نہیں پڑھیں گے تو اس میں انہیں کا نقصان ہے وکلاء کو نقصان نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی حکومت اپنے وعدے کو پورا اور جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے پر بحال کر کے اپنی غلطی کی تلافی کر سکتی ہے۔

وکلاء
وکلاء نے احتجاجاً ہاتھوں میں تالے پکڑ رکھے تھے

حامد خان کا کہنا ہے کہ علی احمد کرد کو سپریم کورٹ بار کے سترفیصد وکلاء نے ووٹ دیا ہے لیکن ملک بھر کے وکلاء ووٹ دے رہے ہوتے تو علی احمد کرد کو نوے فیصد ووٹ ملتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ بار کے نومنتخب صدر علی احمد کرد کی کامیابی میں ایک سینیئر ترین وکیل سے لے کر ایک جونیئر وکیل تک نے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ان کے بقول پنجاب کی ضلعی بار ایسوسی ایشن حافظ آباد نے ایک قرار داد کے ذریعے اپنی بار کے ارکان کو اس بات کا پابند کیا تھا کہ وہ صرف علی احمد کرد کو ہی ووٹ ڈالیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ تین نومبر کو راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خطاب کے بعد وکلاء جلوس کی شکل میں شاہراہ دستور پر جائیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال نے اجلاس کو بتایا کہ مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے انہیں ٹیلی فون کر کے علی احمد کرد کے کامیاب ہونے پر مبارک باد دی ہے۔

علی احمد کرد
نواز شریف نے ٹیلی فون کر کے بار کونسل کو علی احمد کرد کے کامیاب ہونے پر مبارک باد دی ہے

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وکلاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جلوس میں شرکت کی۔ جلوس میں وکلاء کی تعداد ماضی کے نسبت خاصی زیادہ تھی۔

پنجاب اسمبلی کے سامنے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتیں جب حزب مخالف میں ہوتی ہیں تو عدلیہ کی آزادی کی بات کرتی ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد آزاد عدلیہ کی کمر میں خنجر گھونپنے لگتی ہیں۔

قبل ازیں لاہور کی ضلعی بار اور لاہور ہائی کورٹ بار کے الگ الگ اجلاس ہوئے جس کے بعد وکلاء نے ایوان عدل سے جلوس نکالا جو پنجاب اسمبلی کے سامنے ختم ہوا۔

جلوس کے اختتام پر لاہور کی ضلعی بار کےعہدیدار نے وہ تالے بھی دکھائے جو چار نومبر کو ماتحت عدلیہ کی تالابندی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

وکلاء وکلاء کا دھرنا
وکلاء کا دھرنا، پولیس کا لاٹھی چارج
پاکستانی وکلاء (فائل فوٹو)ججوں کی بحالی
فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا: فاروق نائیک
امین فہیمسیاسی ردِ عمل
’مواخذے کی بات آ بیل مجھے مار والی بات ہے‘
اعتزاز احسن اعتزاز اور پیپلز لائرز
پی سی او چیف جسٹس کو نہ بلانےکی اپیل
وکلاء کا احتجاج وکلاء کا احتجاج
ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا احتجاج جاری
جسٹس چوہدریجسٹس چوہدری
اسلام آباد سے فیصل آباد کا سفرٹھنڈا رہا
وکلاء فائل فوٹوصدر کی سازش؟
اعتزاز کے خطاب میں ہاتھا پائی اور حملہ
اسی بارے میں
اصل چیف جسٹس افتخار ہی: کرد
28 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد