اصل چیف جسٹس افتخار ہی: کرد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق وکلا تحریک کے سرگرم رہنما علی احمد کرد سپریم کورٹ بار کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے اپنے مدمقابل حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے حمایت یافتہ امیدوار سابق سینیٹر ایم ظفر کو شکست دی ہے جن کو اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ، سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم اور اشرف واہلہ گروپ کی حمایت حاصل تھی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان کے بقول انتخابات میں علی احمد کرد سمیت بار کے دیگر عہدوں پر ان کے گروپ کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔
علی احمد کرد پاکستان بار کونسل کے رکن ہیں اور سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے لیے جاری تحریک کے متحرک اور فعال رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ علی احمد کرد کو حامد خان، اعتزاز احسن ، منیر ملک اور طارق محمود کی حمایت حاصل تھی۔ منگل کو ہونے والے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے لیے پاکستان کے چاروں صوبوں میں وکلا نے ووٹ ڈالے۔
سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں صدارت کے منصب کے لیے ہرسال چاروں صوبوں میں سے ایک صوبے کی باری ہوتی ہے اور اس مرتبہ بلوچستان کی باری تھی۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا تعلق بھی بلوچستان سے ہے۔ سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری امین جاوید کے بقول غیر سرکاری نتائج کے مطابق نو منتخب عہدیداروں میں صدر کے عہدے پر علی احمد کرد جبکہ نائب صدر( پنجاب ) جاوید جلال میاں، نائب صدر( سندھ ) محمد سہیل ، نائب صدر(سرحد )سعید اختر اور نائب صدر( بلوچستان ) ایاز خان سواتی ، سیکرٹری شوکت عمر پیرازدہ، ایڈیشنل سیکرٹری خالد پرویز اور سیکرٹری خرانہ شیخ احسن شامل ہیں۔ لاہور میں جب پانچ بجے ووٹنگ ختم ہوئی تو اس کے ایک گھنٹے کے بعد علی احمد کرد کے حامیوں نے اپنے امیدوار کی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے جشن منانا شروع کردیا۔ وکلاء نے چیف تیرے جان نثار بے شمار بے شمار اور چیف تیرا قافلہ روکا نہیں تھما نہیں کے نعرے لگائے۔ وکلا نے علی احمد کرد اور اعتزاز احسن کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور اور ان کو جلوس کی شکل میں سپریم کورٹ کی عمارت سے مال روڈ پر لے آئے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر علی احمد کرد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وکلا یہ چاہتے ہیں کہ ان کی تحریک جو اپنی منزل سے چند قدم کے فاصلے پر ہے اس کا سفر جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اصل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہی ہیں اور جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے جاری تحریک کو پوری شدت کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔ دریں اثناء سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے کرد مخالف نومنتخب رکن احمد شہزاد رانا ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ عبدالحمید ڈوگر کا پاکستان کا چیف جسٹس ہونا ایک زمینی حقیقت ہے اسے تسلیم کرنا ہی ہوگا۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ عدلیہ بحالی تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ شہزاد رانا فاروق ان دو ممبران میں شامل ہیں جنہوں نے کرد مخالف ہونے کے باوجود سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||