کرد کے آنسو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گذشتہ سال وکلا تحریک کے عروج پر ہزاروں لوگوں کا ایک جلوس جب ضِلع اوکاڑہ کی حدود میں داخل ہوا تو اُس میں ہزاروں لوگ اور شامل ہو گئے۔ جلوس کا استقبال کرنے والوں کی توجہ کا مرکز وہ جیپ تھی جس کی چھت سے نکل کر علی احمد کرد نعروں کا جواب دے رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ دس بارہ سال کی عمر کے درجنوں لڑکے دھکے دے کر جیپ کے پاس آتے ہیں اور علی احمد کرد سے ہاتھ ملاتے، کچھ آٹوگراف لیتے اور پھر اپنے ساتھیوں کو فاتحانہ نظروں سے دیکھتے۔ میں جیپ کے پیچھے چل رہا تھا میں نےایک لڑکے سے پوچھا کہ جانتے ہو یہ کون ہے؟ لڑکے نے گھُور کر مجھ سے پوچھا علی احمد کرد نوں نہیں پچھاندے؟ وکیل اے بہت وڈا وکیل۔ لوگوں کا جوش دیکھ کر علی احمد کرد بھی جذبات کی رو میں آگئے۔ ایک ہاتھ سے وہ اپنے مشہور زمانہ بالوں کو سنوار رہے تھے اور دوسرے ہاتھ میں ایک رومال تھامے اپنے آنسو پونچھ رہے تھے۔ میں علی احمد کرد کو ایک زمانے سے جانتا تھا۔ نوے کی دہائی میں بلوچستان کے ایک سابق وزیر نے میری ایک سٹوری پر بھنّا کر کوئٹہ میں مجھ پر ایک مقدمہ دائر کردیا۔ صحافی دوستوں نے مشورہ دیا کہ کوئٹہ میں صرف ایک وکیل ہے جو بکے گا نہیں اور تمہارا مقدمہ اپنا سمجھ کر لڑے گا۔ علی احمد کرد میرے وکیل بنے اور سالہا سال تک سابق وزیر کے ہر طرح کے دباؤ کے باوجود ہمارا مقدمہ خوب لڑا۔ میں کراچی سے صبح کی فلائٹ لے کر پیشی کے لیے کوئٹہ پہنچتا اُنکے دفتر میں بیٹھ کر چائے پیتا اور اُنکے منشی سے علی احمد کرد کی زندگی کے قصے سُنتا۔ جب ستّر کی دہائی میں کرد کے اکثر بلوچ نیشنلسٹ ساتھی بندوقیں اٹھا کر پہاڑوں پر چڑھ گئے تو علی احمد کرد کوئٹہ میں ہی رہے اور پُرامن احتجاج جاری رکھا۔ جیلیں کاٹیں مقدمے بھگتے لیکن احتجاج سے باز نہیں آئے۔ ایک دفعہ جب فوجی اہلکاروں نے انکے گھر چھاپا مار کر ایک بم پلانٹ کرنے کی کوشش کی تو کرد نے اہلکار کا بم والا ہاتھ دبوچ لیا اور چیختے رہے کہ دیکھو یہ بم پلانٹ کر رہا ہے۔
میں اپنے مقدمے کی پانچویں پیشی کے لیے انکے دفتر پہنچا تو کرد صاحب غائب تھے۔ منشی سے پوچھا کہاں گئے تو اس نے اطمینان سے جواب دیا ’جیل میں ہائی کورٹ کے ججوں کی کرپشن کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے، ایک جج نے توہین عدالت میں بند کردیا‘۔ اس کے کچھ سال بعد کرد صاحب سے کراچی میں ملاقات ہوئی۔ وہ لاہور جا رہے تھے کرپشن کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے آپ کو شیر کے پنجرے میں ڈالنے۔ پاکستان کی وکلا برادری نے احتجاج کرنا دو سال پہلے سیکھا ہے۔ کرد یہ کام چالیس سال سے کر رہے ہیں۔ اوکاڑہ میں وکیلوں کے اجتماع سے اگلے دن ایک پرانے سیاسی ورکر سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ ایسا استقبال تو اس شہر میں کبھی بھٹو کا بھی نہیں ہوا تھا۔ پھر اس نے کہا سنا ہے اوکاڑہ والوں نے کرد کو رُلا دیا۔ میں نے کہا ہاں بچہ بچہ تو اسکے آٹوگراف لے رہا تھا۔ ایسا استقبال اس نے کہاں دیکھا ہوگا۔ جذباتی ہوگیا۔ علی احمد کرد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتحب ہوں چاہے نہ ہوں، لوگوں کی امیدیں پوری ہوں یا نہ ہوں وہ کبھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||