BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 October, 2008, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرد کے آنسو

علی احمد کرد
علی احمد کرد اور اعتزاز احسن وکلا تحریک کے قائد اور دو ساتھی
گذشتہ سال وکلا تحریک کے عروج پر ہزاروں لوگوں کا ایک جلوس جب ضِلع اوکاڑہ کی حدود میں داخل ہوا تو اُس میں ہزاروں لوگ اور شامل ہو گئے۔ جلوس کا استقبال کرنے والوں کی توجہ کا مرکز وہ جیپ تھی جس کی چھت سے نکل کر علی احمد کرد نعروں کا جواب دے رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ دس بارہ سال کی عمر کے درجنوں لڑکے دھکے دے کر جیپ کے پاس آتے ہیں اور علی احمد کرد سے ہاتھ ملاتے، کچھ آٹوگراف لیتے اور پھر اپنے ساتھیوں کو فاتحانہ نظروں سے دیکھتے۔

میں جیپ کے پیچھے چل رہا تھا میں نےایک لڑکے سے پوچھا کہ جانتے ہو یہ کون ہے؟

لڑکے نے گھُور کر مجھ سے پوچھا علی احمد کرد نوں نہیں پچھاندے؟ وکیل اے بہت وڈا وکیل۔

لوگوں کا جوش دیکھ کر علی احمد کرد بھی جذبات کی رو میں آگئے۔ ایک ہاتھ سے وہ اپنے مشہور زمانہ بالوں کو سنوار رہے تھے اور دوسرے ہاتھ میں ایک رومال تھامے اپنے آنسو پونچھ رہے تھے۔

میں علی احمد کرد کو ایک زمانے سے جانتا تھا۔ نوے کی دہائی میں بلوچستان کے ایک سابق وزیر نے میری ایک سٹوری پر بھنّا کر کوئٹہ میں مجھ پر ایک مقدمہ دائر کردیا۔ صحافی دوستوں نے مشورہ دیا کہ کوئٹہ میں صرف ایک وکیل ہے جو بکے گا نہیں اور تمہارا مقدمہ اپنا سمجھ کر لڑے گا۔ علی احمد کرد میرے وکیل بنے اور سالہا سال تک سابق وزیر کے ہر طرح کے دباؤ کے باوجود ہمارا مقدمہ خوب لڑا۔

میں کراچی سے صبح کی فلائٹ لے کر پیشی کے لیے کوئٹہ پہنچتا اُنکے دفتر میں بیٹھ کر چائے پیتا اور اُنکے منشی سے علی احمد کرد کی زندگی کے قصے سُنتا۔

جب ستّر کی دہائی میں کرد کے اکثر بلوچ نیشنلسٹ ساتھی بندوقیں اٹھا کر پہاڑوں پر چڑھ گئے تو علی احمد کرد کوئٹہ میں ہی رہے اور پُرامن احتجاج جاری رکھا۔ جیلیں کاٹیں مقدمے بھگتے لیکن احتجاج سے باز نہیں آئے۔

ایک دفعہ جب فوجی اہلکاروں نے انکے گھر چھاپا مار کر ایک بم پلانٹ کرنے کی کوشش کی تو کرد نے اہلکار کا بم والا ہاتھ دبوچ لیا اور چیختے رہے کہ دیکھو یہ بم پلانٹ کر رہا ہے۔

News image
منشی نے جواب دیا جیل میں
 پانچویں پیشی کے لیے انکے دفتر پہنچا تو کرد صاحب غائب تھے۔ منشی سے پوچھا کہاں گئے تو اس نے اطمینان سے جواب دیا ’جیل میں، ہائی کورٹ کے ججوں کی کرپشن کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے
محمد حنیف

میں اپنے مقدمے کی پانچویں پیشی کے لیے انکے دفتر پہنچا تو کرد صاحب غائب تھے۔ منشی سے پوچھا کہاں گئے تو اس نے اطمینان سے جواب دیا ’جیل میں
ہائی کورٹ کے ججوں کی کرپشن کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے، ایک جج نے توہین عدالت میں بند کردیا‘۔

اس کے کچھ سال بعد کرد صاحب سے کراچی میں ملاقات ہوئی۔ وہ لاہور جا رہے تھے کرپشن کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنے آپ کو شیر کے پنجرے میں ڈالنے۔

پاکستان کی وکلا برادری نے احتجاج کرنا دو سال پہلے سیکھا ہے۔ کرد یہ کام چالیس سال سے کر رہے ہیں۔

اوکاڑہ میں وکیلوں کے اجتماع سے اگلے دن ایک پرانے سیاسی ورکر سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ ایسا استقبال تو اس شہر میں کبھی بھٹو کا بھی نہیں ہوا تھا۔

پھر اس نے کہا سنا ہے اوکاڑہ والوں نے کرد کو رُلا دیا۔ میں نے کہا ہاں بچہ بچہ تو اسکے آٹوگراف لے رہا تھا۔ ایسا استقبال اس نے کہاں دیکھا ہوگا۔ جذباتی ہوگیا۔
نہیں بھولے بادشاہو، سیاسی ورکر نے کہا۔ کرد سیانا آدمی ہے۔ رو اس لیے رہا تھا کہ اسے پتہ ہے کہ جو امیدیں لے کر لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں انہیں وہ کبھی بھی پوری نہیں کر سکتا۔

علی احمد کرد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتحب ہوں چاہے نہ ہوں، لوگوں کی امیدیں پوری ہوں یا نہ ہوں وہ کبھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے۔

وکلاء وکلاء کا دھرنا
وکلاء کا دھرنا، پولیس کا لاٹھی چارج
پاکستانی وکلاء (فائل فوٹو)ججوں کی بحالی
فیصلہ پارلیمنٹ میں ہوگا: فاروق نائیک
امین فہیمسیاسی ردِ عمل
’مواخذے کی بات آ بیل مجھے مار والی بات ہے‘
اعتزاز احسن اعتزاز اور پیپلز لائرز
پی سی او چیف جسٹس کو نہ بلانےکی اپیل
وکلاء کا احتجاج وکلاء کا احتجاج
ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا احتجاج جاری
جسٹس چوہدریجسٹس چوہدری
اسلام آباد سے فیصل آباد کا سفرٹھنڈا رہا
وکلاء فائل فوٹوصدر کی سازش؟
اعتزاز کے خطاب میں ہاتھا پائی اور حملہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد