سندھ ہائی کورٹ سے اختیار واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت سندھ نے سول ججوں کی تقرری کا اختیار ہائی کورٹ سے واپس لےکر پبلک سروس کمیشن کو سونپ دیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے اور اسکے خلاف احتجاجی مہم چلانے اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی میں جمعرات کو ہونے والے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی منیجنگ کمیٹی کے اجلاس میں حکومتی فیصلے کے خلاف قرار داد منظور کی گئی اور اسے عدلیہ کی آزادی اور آئین اور قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ ہائی کورٹ بار کے سیکریٹری منیر الرحمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ”پبلک سروس کمیشن ایک آزاد ادارہ نہیں ہے اور جب سول ججوں کی تقرری پر ہائی کورٹ کا کوئی کنٹرول نہیں ہوگا تو یہ عمل شفاف نہیں رہے گا اور اس میں حکومت کی مداخلت بڑھ جائے گی۔،، انہوں نے کہا کہ سابقہ طریقہ کار کے تحت ہائی کورٹ ضابطے کی تمام کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد سول ججوں کی تقرریاں کرتی تھی جس میں تحریری ٹیسٹ اور انٹرویو وغیرہ شامل ہوتا تھا اور اسکے بعد ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی تقرری کا فیصلہ کرتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت نے سندھ جوڈیشیئل سروسز رولز 1974ء میں کی گئی ترامیم واپس نہ لیں تو وکلاء احتجاجی مہم شروع کریں گے اور ہائی کورٹ میں اس کے خلاف آئینی درخواست بھی داخل کی جائے گی۔ ہائی کورٹ بار کی منیجنگ کمیٹی نے اس مسئلے کو ملکی اور بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’قانون کی حکمرانی نہیں تو ترقی نہیں‘08 November, 2008 | پاکستان ’پارلیمانی کمیٹی تحقیقات روک دے‘04 December, 2008 | پاکستان ’آنکھیں بند کر کے تائید نہیں کریں گے‘01 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||