BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 08 November, 2008, 20:59 GMT 01:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’قانون کی حکمرانی نہیں تو ترقی نہیں‘

جسٹس افتخار
قانون کی حکمرانی یہ تحریک صرف وکلاء کی نہیں ہے:جسٹس افتخار
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ
بدقسمتی سے ملک میں صرف چوبیس سال جمہوریت اور باقی عرصہ آمریت رہی ہے لیکن اب یہ ثابت کرنا ہے کہ آئندہ آمریت نہیں بلکہ آئین اور جمہوریت کی حکمرانی ہوگی۔

معزول چیف جسٹس نے یہ بات سینچر کی رات پنجاب کے شہر گوجرانوالہ کی ضلعی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ قبل ازیں جسٹس افتخار محمد چودھری نے گجرات بار ایسوسی ایشن میں مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک کے نتیجے میں تین نومبر کے اقدامات واپس ہونگے۔

گوجرانوالہ بار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں پہلی مرتبہ وکلاء نے تمام لوگوں کو یہ بات یاد کرائی ہے کہ اگر ملک میں قانون کے حکمرانی نہیں ہوگی تو یہ ملک بطور معاشرہ ترقی نہیں کر سکے گا اس لیے ملک کی ترقی کے لیے قانون کی حکمرانی ہو۔

ان کے بقول قانون کی حکمرانی یہ تحریک اس وقت صرف وکلاء کی نہیں ہے بلکہ اس میں سول سوسائٹی کے ارکان کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء آج بھی تحریک میں اس طرح جدوجہد کررہے ہیں جیسے وہ ایک پہلے ایک سال پہلے کر رہے تھے جب یہ تحریک شروع ہوئی تھی۔

معزول چیف جسٹس نے وکیلوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور ان کی تحریک ضرور کامیاب ہوگی۔

قبل ازیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا کی منزل اب چند قدم کے فاصلے پر ہے اور وکیل جس مقصد کو لے چلے تھے وہ اب پورا ہونے کو ہے۔

پاکستان بارکونسل کے رکن اور وکیل رہنما حامد خان نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے وعدہ خلافیوں کا جو سلسلہ تیس اپریل سے شروع کیا تھا وہ اب بھی جاری ہے ۔ان کے بقول آصف علی زرداری نے غیر آئینی چیف جسٹس سے حلف لے کر اپنی عہدے کے تقاضے پورے نہیں کیے ہیں ۔

معزول چیف جسٹس اپنے خطاب کے بعد قافلے کی شکل میں سیالکوٹ کی طرف روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے سینیچر کی شام چار وکلاء کنونشنز سے خطاب کرنا تھا۔

اسی بارے میں
حکومت وعدہ کر کے پھر گئی: کرد
08 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد