BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2008, 23:23 GMT 04:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء جدوجہد جاری رہے گی: کرد

وکلاء نے راولپنڈی سے اسلام آباد تک مارچ کیا
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے عوام سے عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور معزول چیف جسٹس افتحار محمد چودھری کی بحالی تک وکلاء تحریک جاری رہے گی۔ جبکہ وکلاء کا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دو گھنٹے کا احتجاجی دھرنا منگل کے روز ملک بھر میں عدالتوں کے بائیکاٹ اور ہڑتال کے اعلان کے ساتھ ختم ہو گیا ہے ۔

سوموار کے روز وکلاء ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے گزشتہ سال تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت اعلی عدلیہ کے ججوں کی بر طرفی کے خلاف یوم سیاہ مناتے ہوئے راولپینڈی سے اسلام آباد تک احتجاجی جلوس نکالا اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر دو گھنٹے تک احتجاجی دھرنا دیا۔ جو بعد میں رات گئے پر امن طور پر ختم ہو گیا۔

احتجاجی دھرنے کے اختتام پر سپریم کورٹ بار اسیوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی تحریک نے عوام کو شعور دیا ہے جس کو دولت اور سازش سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے شعور اور وکلاء کے احتجاج کے باعث اب کبھی تین نومبر کو دوبارہ دہرایا نہیں جا سکے گا۔

علی احمد کرد نے کہا کہ حکومت کو سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس کو عدالت سے باہر نکالنا ہو گا جبکہ پارلیمنٹ عدلیہ کو دو نومبر دو ہزار سات والی پوزیشن پر بحال کرے۔

انہوں نے کہا کہ تین نومبر کو ایک فوجی آمر کے کیے گئے غیر آئینی اقدامات کو نہ وکلاء مانتے ہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اور آج تین نومبر کو یوم سیاہ منانے کا مقصد یہ ہے کہ فوجی آمر کے فیصلے کو کبھی تاریخ نہیں مانے گی۔

انہوں نے کہا کہ منگل کے روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں وکلاء تحریک کے حوالے سے اہم فیصلے ہونگے۔ تاہم اب تمام فیصلے فرد واحد کی مرضی سے نہیں بلکہ سب کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔

علی احمدکرد نے سوموار کے روز ملک بھر کے وکلاء سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے ہیں اس لیے منگل کے روز ملک بھر کی تمام عدالتوں کا بائیکاٹ اور ہڑتال کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج وکلاء عوام سے عہد کرتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کے لیے وکلاء لڑتے رہیں گے۔

واضع رہےکہ گزشتہ برس تین نومبر کو اس وقت کے آرمی چیف اور صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی لگاتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت ملک کی اعلٰی عدلیہ کے ساٹھ کے قریب ججوں کو برطرف کر کے انہیں گھروں میں نظر بند کر دیا تھا۔ جبکہ معزول چیف جسٹس ایک سال گزرنے کے بعد بھی بحال نہیں ہو سکے ہیں ۔

وکیل رہنما اور سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن چودھری اعتزاز احسن نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے وکلاء تحریک کا مقصدر صرف معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی نہیں تحریک کا مقصدر ریاست کے مزاج کو بدلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہوتی جا رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے آج عوام ک سستی اعلی تعیلم اور صحت کی معیاری سہولتیں میسر نہیں ہیں ۔

احتاجی دھرنے سے مسلم لیگ نواز کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک خاکسار کے مقامی رہنماؤں نے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ لاپتہ افراد کےاہلخانہ نے بھی دھرنا دیا۔

اس سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے کےلیے وکلاء کا جلوس راولپینڈی بار سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خطاب کے بعد پاکستانی وقت کے مطابق چار بجے کے قریب شروع ہوا تھا۔ جلوس میں معزول چیف جسٹس سمیت سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ایک کثیر تعداد شامل تھی۔جلوس میں شامل سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگ ن کے کارکن سب سے زیادہ تھے۔

معزول چیف جسٹس لگ بھگ تین گھنٹے تک وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے جلوس میں شامل رہے ۔ اس دوران راولپینڈی شہر سے گزرتے ہوئے چیف جسٹس کی گاڑی کو جگہ جگہ بنائے گئے مسلم لیگ نواز کے استقبالی کیمپوں میں روکا جاتا رہا اور ان کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی رہیں جبکہ ڈھول کی تھاپ پر رقص کے علاوہ بعض مقامات پر آتش بازی بھی کی گئ ۔

استقبالی کیپموں میں مسلم لیگ نواز کے علاوہ جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے چند ایک کیمپ موجود تھے جہاں وکلاء کا جلوس تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے رکا۔

وکلاء ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے سینکڑوں کارکنوں پر مشتمل جلوس جب اسلام آباد کی حدور میں داخل ہوا تو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جلوس سے نکل کر اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ روانہ ہو گے۔

جلوس کے دوران وکلاء مسلسل آزاد عدلیہ اور معزول چیف جسٹس کی بحالی کے حق میں اور صدر آصف علی زردری کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔

وکلاء ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے سینکڑوں کارکنوں پر مشتمل جلوس شاہراہ اسلام آباد ، آب پارہ چوک سے گزرتا ہوا پانچ گھنٹے کے بعد پارلیمنٹ ہاوس کے نزدیک پہنچا تو انتظامیہ نے صرف اُس ٹرک کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جانے کی اجازت دی جس پر وکلاء رہنما سوار تھے۔ اور بعد میں اسی ٹرک کو سٹیج کے طور استعمال کیا گیا۔

اس کے علاوہ گاڑیوں بسوں اور موٹر سائیکل پر سوار وکلاء اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو پیدل سکیورٹی گیٹ سے گزارنے اور بعد میں تلاشی لینے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شاہراہ دستور پر جانے کی اجازت دی گی۔

اس موقع پر پولیس کے علاوہ ریجنرز کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا تھا اس کے ساتھ دو عدد ایمبولینس اور ایک بکتر بند گاڑی بھی موجود تھی۔

واضح رہے کہ اس سال اکتوبر میں اسلام آباد کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے میریئٹ ہوٹل پر ہوئے خودکش ٹرکے حملے کے بعد پارلیمنٹ ہاوس اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا تھا جہاں عام دنوں میں بھی سخت سکیورٹی کے باعث لوگوں کا جانا کافی مشکل ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ تین نومبر دو ہزار سات کے بعد پہلی بار وکلاء کے دھرنے کے لیے بلیو ایریا سے پارلیمنٹ ہاوس جانے والا راستہ کھولا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد