BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2008, 06:59 GMT 11:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پارلیمنٹ کے سامنے وکلا دھرنا جاری

افتخار
دھرنے کے شرکا پچیس منٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچے
وکلا اور سیاسی کارکنوں کا جلوس اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچ چکا ہے جہاں دو گھنٹے کا دھرنا دیا جائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے ذیشان ظفر کے مطابق اس دوران وکلا رہنما پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر علی احمد کرد اور بار کے سابق صدر اعتزاز احسن دھرنے کے شرکا سے خطاب کریں گے۔


دھرنے کے شرکا نے پارلیمنٹ کی طرف چار بجے مارچ شروع کیا اور زیرو پوائنٹ سے آب پارہ چوک اور ایمبسی روڈ ہوتے ہوئے تقریباً پچیس منٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پہنچے۔

رستے میں کئی جگہ ایسے دروازے بنائے گئے تھے جن کے ذریعے دھرنے میں شامل ہونے کے لیے جانے والوں کو گزرنا تھا۔ اس لیے جلوس کے شرکا نے اپنی گاڑیاں دور ہی چھوڑ دیں اور پیدل ہی پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے عدالت عظمٰی کے بعض فیصلوں کو اپنے حق میں کروانے میں ناکامی کے بعد انہیں برطرف کیا۔

افتخار چوہدری نے یہ بھی کہا نو مارچ اور تین نومبر سنھ دو ہزار سات کو دونوں مرتبہ برطرفی سے قبل صدر مشرف کی جانب سے انہیں مصالحت کے لئے مختلف لالچ دیئے گئے جنہیں قبول نہ کرنے کی صورت میں دھمکیاں بھی دی گئیں۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق اس بات کا انکشاف معزول چیف جسٹس نے راولپنڈی بار میں یوم سیاہ کے موقع پر منعقد کی گئی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سوا گھنٹے طویل اس خطاب میں جسٹس افتخار نے نو مارچ سے قبل کے حالات سے لیکر تین نومبر تک کے واقعات کی تفصیل کے ساتھ تصویر کشی کی تاہم انہوں نے کہا کہ اس تفصیل میں وہ واقعات شامل نہیں ہیں جو اعلٰی ترین عدالت کے جج کی حیثیت سے ان پر صیغہ راز میں رکھنے کی پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’کلاسیفائیڈ’ اطلاعات یا راز چیف جسٹس کے عہدے پر بحال ہونے کے بعد عوام کے سامنے لانے کی کوشش کریں گے۔

ایک موقع پر انہوں نے کہا ’بیس جولائی کو میری بحالی کے بعد پرویز مشرف کے ملٹری سیکرٹری نے مجھے فون کیا اور کہا کہ صدر صاحب بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے آپریٹر سے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا نمبر دے دو کیونکہ اس آدمی کا لیول رجسٹرار کی سطح کا ہے لہذا وہ اسی سے بات کرے‘۔

سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے خلاف پرویز مشرف کی کارروائی کی بنیاد بعض عدالتی فیصلے تھے جن میں سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف عدلیہ کا فیصلہ اور صدر مشرف کی پاک فوج کی ملازمت کے دوران صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے خلاف دائر کردہ پٹیشن پر متوقع خلاف فیصلہ شامل ہیں۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ صدر مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے ان مقدمات کی عدالت میں زیر سماعت ہونے کے دوران بعض دوستوں کی وساطت سے میرے ساتھ رابط کیا اور اپنے حق میں فیصلہ کروانے کی خواہش ظاہر کی۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس اکتوبر کے مہینے میں جب عدالت کا گیارہ رکنی بینچ پرویز مشرف کی صدارتی انتخاب کے لئے اہلیت کے بارے میں دائر پٹیشن کی سماعت کر رہا تھا، صدر مملکت نے ایک دوست کے ذریعے ان سے رابطہ کیا اور پیغام بھجوایا کہ یہ فیصلہ انکے حق میں کروا دیں۔ جب انہیں بتایا گیا کہ چیف جسٹس اس بینچ کا حصہ نہیں تو کہا گیا کہ آپ فلاں جج کو کہہ دیں کہ وہ صدر مشرف کے حق میں فیصلہ دے دیں۔ اور اگر آپ یہ بھی نہیں کر سکتے تو بنچ توڑ دیں تاکہ سارے مقدمے کی از سر نو سماعت کی جا سکے۔

جسٹس افتخار نے کہا کہ میں نے اس طرح کا پیغام لانے والے سے کہا’ یہ کوئی آرمی کی ریجمنٹ نہیں ہے جس میں جو آپ کی مرضی ہو آپ حکم دے دیں۔ یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اور یہاں فیصلے صرف اور صرف قانون کی بنیاد پر ہوں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد یکم نومبر کو ایک اور پیغام ملا کہ ملک کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں اور یہ حالات بارہ اکتوبر انیس سونناوے کی طرح ہیں لہذا آپ کو اپنی نوکری بچانی ہے تو بچا لیں ورنہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اصل میں صدر مملکت اس پریشانی کا شکار ہو گئے تھے کہ پانچ نومبر کو عدالت انکی اہلیت کے بارے میں فیصلہ دینے والی تھی۔ اسکے علاوہ نواز شریف کو وطن واپس آنے کی اجازت دینے کے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر وزیراعظم شوکت عزیز کو بھی عدالت نے توہین عدالت کے نوٹس کے ذریعے آٹھ نومبر کو طلب کر رکھا تھا۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو بینظیر بھٹو کی جانب سے ووٹرز لسٹوں میں سے تین کروڑ نام خارج کرنے کے خلاف دائر کردہ پٹیشن پر ہونے والے فیصلے سے بھی تکلیف تھی۔ جسٹس افتخار نے کہا کہ اس موقع پر بھی ’مجھے کہا گیا کہ عدالت انتظامیہ کے کاموں میں مداخلت کر رہی ہے جس پر میں نے انہیں بتایا کہ الیکشن فہرستیں انتظامیہ نہیں بلکہ الیکشن کمیشن بناتی ہے‘۔

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ بائیس جولائی کو عدالت کے فیصلے کے تحت ان کی بحالی کے بعد صدر مشرف کی جانب سے انہیں پیغام دیا گیا کہ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں جس پر’میں نے معذرت کر لی‘۔ مجھے پھر کہا گیا کہ صدر صاحب آپ کے ساتھ پرانے تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں۔ ’میں نے انہیں بتایا کہ میری ان سے کوئی رشتہ داری پہلے بھی نہیں تھی‘۔ اسکے بعد کہا گیا کہ ’وہ یکطرفہ طور پر ٹیلی وژن پر آ کر کہہ دیں گے کہ وہ آپ کے ساتھ تعلقات بحال کرنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا کہ جج کی کسی سے دوستی اور دشمنی نہیں ہوتی۔ یہ سب عدلیہ میں نہیں چلتا۔ یہاں ہر کام آئین اور قانون کے مطابق ہوتا ہے‘۔

نو مارچ کو اپنی پہلی برطرفی سے پہلے کی تفصیل بتاتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ سٹیل ملز کیس میں حکومت کے خلاف ہونے والا فیصلہ انکی برطرفی کا باعث بنا۔ انہوں نے کہا کہ ’اس فیصلے کے بعد اور برطرفی سے پہلے وزیراعظم شوکت عزیز مجھ سے ملے اور کہا کہ صدر مشرف اس فیصلے کی وجہ سے آپ سے سخت ناراض ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ عدلیہ کسی ایک فرد کو خوش کرنے کے لیے فیصلے نہیں دے سکتی۔ اس لیے انہیں عدالت کے کسی فیصلے سے ناراض یا خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے‘۔

معزول چیف جسٹس نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ نے ابھی تک تین نومبر کے مشرف کے اقدامات کی توثیق نہیں کی ہے۔ اس روز لگنے والی ایمرجنسی کو جسٹس افتخار نے ماشل لا قرار دیا اور اپنی تقریر میں اسے بار بار اسی نام سے پکارا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب صدر علی احمد کرد نے راولپنڈی بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلاء تحریک عدلیہ کی بحالی تک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء ڈیڑھ سال سے کسی ذاتی مفاد کی خاطر سڑکوں پر نہیں ہیں اور نہ ہی کسی سے دشمنی ہے۔

وکلاء تحریک تین نومبر یعنی سوموار کو ملک بھر میں یوم سیاہ منا رہی ہے اور اس سلسلے میں معزول چیف جسٹس پنڈی بار سے خطاب کرنے کے بعد جلوس کی شکل میں اسلام آباد آئے تھے۔

علی احمد کرد نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ آزاد عدلیہ کو بحال کر دیا جائے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو وکلا اپنی پوری طاقت کے ساتھ ان لوگوں سے ٹکرا جائیں گے جو عدلیہ کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایسے تین نومبر ہر سال آئے گا لیکن جسٹس افتخار بحال نہیں ہوں گے تو وہ بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔‘

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اعتزاز احسن نے اپنی تقریر میں کہا جب تک عدلیہ آزاد نہیں ہوتی ملک میں نہ امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں ان ججوں سے بہت شکوہ ہے جنہوں نے تحریک سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔

اعتزاز احسن نے کہا: ’ہم ایک ہی صورت میں ان ججوں کا قصور معاف کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اگر وہ عدلیہ میں رہتے ہوئے چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک میں شامل ہو جائیں۔‘

نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا کہ یوم سیاہ کے موقع پر اسلام آباد کی انتظامیہ اور وکلاء نمائندوں کے درمیان خاصی کشیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ رات گئے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود فریقین کے درمیان ریلی اور دھرنے کے مقام پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

شکوہ
 ان ججوں سے بہت شکوہ ہے جنہوں نے تحریک سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا
اعتزاز احسن

وکیل رہنماؤں نے سوموار کو سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے شاہراہ دستور پر دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے خصوصی حفاظتی ریڈ زون میں واقع اس اہم شاہراہ پر کسی قسم کے شو کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب سیکرٹری داخلہ کمال شاہ نے گزشتہ رات بی بی سی کو بتایا تھا کہ انتظامیہ نے وکیل رہنماؤں کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی بجائے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اس مقام پر دھرنا دے لیں جہاں اس سال جون میں وکلاء اور سول سوسائٹی کے لانگ مارچ کے اختتام پر دھرنا دیا گیا تھا۔

کنٹینرز کے ذریعے خصوصی حفاظتی ریڈ زون میں واقع اس اہم شاہراہ کو بند کرنے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے بڑی تعداد میں کنٹینرز ریڈ زون کے باہر ایک میدان میں جمع کر لئے گئے ہیں اور انہیں اٹھانے کے لئے کرینز اور بڑے ٹرک بھی موجود ہیں۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق یوم سیاہ کے سلسلہ میں بار ایسوسی ایشنوں میں سیاہ پرچم لہرائے گئے اور وکلا نے بازؤں پر کالی پٹیاں باندھیں۔

ضلعی بار کے وکیلوں نے پی ایم جی چوک میں جبکہ لاہور ہائی کورٹ بار کے ارکان نے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا۔ وکلا کے دھرنا میں سول سوسائٹی کے علاوہ اتحاد برائے بحالئی جمہوریت یا اے پی ڈی ایم میں شامل سیاسی جماعتوں نے بھی بھر پور شرکت کی ۔

جلوس میں شامل وکیلوں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں اور صدر آصف زرداری کے خلاف نعرے لگائے۔

گورنرہاؤس کے قریب سول سوسائٹی کے ارکان نے مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی خواجہ سعد رفیق کو دیکھتے ہی ان کی جماعت پر نکتہ چینی شروع کردی اور ان سے کہا کہ مسلم لیگ نون ججوں کی بحالی پردوٹوک موقف اختیار کرے۔ جس پر خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون جج کی بحالی کی تحریک میں مکمل طورشامل ہے۔

وکلا اپنے رہنماؤں کے خطاب کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

ادھر پیپلز پارٹی کے وکلا ونگ نے وکیلوں کے یوم سیاہ کی مکمل حمایت کردی ہے۔

پیپلز پارٹی لائیرز فورم لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر میاں جہانگیر کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستان بارکونسل کے ارکان کاظم خان اور راجہ شفقت عباسی سمیت اٹھارہ وکلا کے نام شامل ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق میاں جہانگیر نے مطالبہ کیا ہے کہ ایمرجنسی کے بعد کے تمام اقدامات کالعدم قرار دیا جائے۔ انہوں نے وکلا قیادت سے بھی مطالبہ کیا معزول ججوں کو بحال کرانے کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔

پیپلز لائیرز فورم کے وکلا نے سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور وہ ہائی کورٹ بار سے ریلی کے ساتھ ہائی کورٹ کے گیٹ تک بھی آئے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ تین نومبر کو عدلیہ پر خونی حملہ کیا گیا تھا، جس کی وکلاء اور عوام نے مزاحمت کی جو آج تک جاری ہے۔

ملیر بار کی جنرل باڈی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وکلاء کو یقینی دہانی کرائی کہ وکلا کی تحریک جلد کامیابی ہوگی اور اس میں جن افراد نے بے وفائی کی ہے انہیں شرمندگی ہوگی۔

سپریم کورٹ کے سابق جج کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی سرد مہری اور منفی رویے کی وجہ سے قوم نظام میں تبدیلی چاہتی ہے اور عدلیہ کی آزادی سے ہی یہ نظام تبدیل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب کراچی سٹی کورٹ میں وکلا کی جنرل باڈی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد نے کہا کہ تین نومبر کو عدلیہ اور میڈیا کا چراغ گل کردیا گیا اور ایک آمر نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیئے یہ سب کیا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ایک سینیئر وکیل اور ایک جج کے ذریعے بھی ان سے رابطہ کیا گیا کہ وہ اپنی درخواست سے دستبردار ہوجائیں مگر انہوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔

اس کے علاوہ اندرون سندھ تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
اصل چیف جسٹس افتخار ہی: کرد
28 October, 2008 | پاکستان
ملتان بار، کھوسہ کا نام حذف
27 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد