BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 September, 2008, 17:22 GMT 22:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انکاری ججوں کی اکثریت واپس

ججوں کی اکثریت دوبارہ حلف اٹھا چکی ہے
سپریم کورٹ کے مزید دو معزول ججوں کی طرف سے نیا حلف لینے پر رضامندگی اور سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے بعد حلف نہ اٹھانے والے سینتالیس ججوں میں سے صرف پندرہ جج عدالتوں سے باہر رہ گئے ہیں۔

تین نومبر کو ملک میں ایمرجسنی کے نفاذ کے بعد پاکستانی عدلیہ نے وہ کر دکھایا جس کی پچھلے ساٹھ سالوں میں ان سے تقاضہ کیا جا رہا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ہمراہ سینتالیس ججوں نے فوجی آمر سے وفاداری کا حلف لینے سے انکار کر دیا۔

مشرف حکومت کی کوششوں کے بعد سینتالیس میں سے پانچ ججوں نے ایک ہفتے کے اندر ہی پی سی او کے تحت حلف اٹھا لیا تھا۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے بیالیس جج پی سی او کےتحت حلف نہ لینے کی پاداش میں گیارہ ماہ تک عدالتوں سے باہر رہے لیکن نئی جمہوری حکومت کے قیام کے بعد اب صرف اٹھارہ رہ گئے ہیں جن میں چار دوبارہ حلف لینے پر رضامند ہیں۔

ان اٹھارہ ججوں میں دو ایسے جج بھی ہیں جو معزولی کے دوران حکومتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں لیکن دوبارہ حلف لینے کے متمنی ہیں۔ دوبارہ حلف سے انکار کرنے والے ججوں میں دو ریٹائرمنٹ کے بلکل قریب ہیں۔

سپریم کورٹ کے تین جج دوبارہ حلف لے کر واپس عدالت پہنچ چکے ہیں جبکہ دو جج کسی بھی دن حلف لے سکتے ہیں

سپریم کورٹ کے وہ جج جو ابھی تک اس اصول پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ غیر آئینی اقدام تھا اور وہ آج بھی آئینی جج ہیں ان میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس فلک شیر، جسٹس راجہ فیاض اور جسٹس اعجاز احمد شامل ہیں۔

پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے سینتالیس ججوں میں سے جسٹس رانا بھگوان داس سمیت کئی جج ریٹائر ہو چکے ہیں جبکہ بعض ایڈہاک ججوں کےکنٹریکٹ کی معیاد ختم ہو چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس جاوید اقبال پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کے بعد ایک حکومتی عہدے پر فائز ہو گئے تھے لیکن حکومتی پارٹی کی انتخابات میں ناکامی کے بعد انہوں نے اس عہدے سے استعفی دے دیا اور اب وہ بھی سپریم کورٹ میں واپسی کے متمنی ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے جن چودہ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کیا تھا ان میں سے دس جج دوبارہ حلف لے کر واپس عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں جبکہ ماضی میں سپریم کورٹ میں تعیناتی سے مسلسل انکار کرنے والے جسٹس صبیح الدین احمد اب سپریم کورٹ جانے پر رضامند ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے عملاً تین انکاری جج رہ جائیں گے جن میں مشیر عالم، مقبول باقر اور سراج میمن شامل ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل واحد جج ہیں جو نیا حلف لینے سے انکاری ہیں۔بلوچستان ہائی کورٹ کے تمام ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لے لیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے دس انکاری ججوں میں سے چار دوبارہ حلف لے چکے ہیں جبکہ جسٹس خواجہ شریف، جسٹس سائر علی، جسٹس جہانگیر ارشد، جسٹس ایم اے شاہد صدیقی، جسٹس اقبال حمیدالرحمان، اور جسٹس اعجاز چودھری رہ گئے ہیں۔

جسٹس افتخار محمد چودھری شاید دوبارہ چیف جسٹس کے عہدے پر تو نہ فائز ہو سکیں لیکن وہ پاکستان کی عدالتی میں ایک ایسے جج کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے ایک فوجی آمر کو ایسے میں انکار کیا جب وہ اپنے اقتدار کے عروج پر تھا اور کوئی قوت اس کے اقتدار کو چیلنج کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔

اسی بارے میں
سپریم کورٹ:تین ججوں کا حلف
05 September, 2008 | پاکستان
پشاور: معزول چیف جسٹس کا حلف
05 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد