معزول جج دوبارہ حلف لیں: نائیک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے حکومتی پیشکش دوہراتے ہوئے تمام معزول ججوں کو آئین کے تحت دوبارہ حلف لینے کا کہا ہے۔ وزیر قانون نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا تمام معزول ججوں کی سنیارٹی برقرار رہے گی اور تمام مراعات بحال کر دی جائیں گی۔ تاہم معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ترجمان اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر قانون نے معزول ججوں کے لیے جو آئین کے تحت حلف لینے کا مؤقف پیش کیا ہے اس سے ان کے اور پرویز مشرف کے مؤقف میں کوئی فرق نہیں رہا۔ وزیر قانون نے یاد دلایا کہ تین نومبر کے عبوری آئینی حکمنامے پر حلف لینے والے ججوں نے بھی جب ہنگامی حالت پندرہ دسمبر کو ختم کی گئی تو آئین کے تیسرے شیڈول کے تحت دوبارہ حلف لیا تھا۔ ’ان چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری یہ رائے ہے کہ جو بھی جج معزول ہیں اور جنہوں نے دوسرے پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا انہیں ہم خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ آئیں اور عدلیہ میں شامل ہو جائیں۔ وہ دیگر ججوں کی طرح آئین کے تحت حلف اٹھائیں ان کی سنیارٹی اور مرعات بحال کر دی جائیں گی۔‘ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ یہ اقدام آئین و قانون کے تقاضے پورے کریں گے اور اس میں کوئی سیاست نہیں ہے۔ ’ہم سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ ہم صرف آئین و قانون کے تحت چلنا چاہتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام معزول ججوں کو یہ پیشکش کی ہے۔ ’میں صرف درخواست کرسکتا ہوں کوئی مانے یا نہ مانے۔‘ تاہم اکثر معزول ججوں اور وکلاء رہنماؤں نے یہ پیشکش مسترد کر دی تھی۔ اطلاعات تھیں کہ سندھ اور لاہور ہائی کورٹ کے بعض معزول جج دوبارہ حلف لینے کو تیار ہوگئے تھے تاہم انہیں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔ وفاقی وزیر قانون کا ان کی جانب سے تیار کیے گئے آئینی پیکج کے بارے میں کہنا تھا کہ اس سے متعلق انہیں کہیں سے کوئی سفارش ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مجوزہ پیکج کی کاپیاں حکمران اتحادی جماعتوں، میڈیا اور وکلاء کو فراہم کر دی گئی تھیں تاہم کسی جانب سے کوئی تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ وہ تجاویز کا انتظار کر رہے ہیں اور انہیں مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا جس کی منظوری سے اسے پارلیمان میں لایا جائے گا۔ ’پارلیمان کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ ہمیں قبول ہوگا۔‘ ان سے جب حکمران اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کے سربراہان آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان ملاقات کے امکان کے بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایسی کسی ملاقات کا ابھی علم نہیں۔ ’جب کچھ طے ہوا تو آپ کو مطلع کر دیا جائے گا۔‘ اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ حکومتی پیشکش محترمہ بینظیر کی وصیت کی نفی ہے اور ان کے ساتھ غداری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین نومبر کے بعد معزول ججوں نے اپنی نوکریوں یا مراعات کے لیے یہ فیصلے نہیں کیے تھے بلکہ انہوں نے آئین اور قانون کی بالادستی اور اصولوں کے لیے کیے تھے۔ | اسی بارے میں دو ٹوک بات کا وقت آگیا: شریف29 July, 2008 | پاکستان دوبارہ لانگ مارچ اور دھرنے کا اعلان02 July, 2008 | پاکستان ’ججز بحالی کے لیے آئینی ترمیم ضروری‘28 June, 2008 | پاکستان سیاسی مسائل، حل مفاہمت میں 10 March, 2008 | پاکستان ’نئی پارلیمنٹ سے خیر کی توقع نہیں‘21 February, 2008 | پاکستان تمام ججز کو بحال کریں گے: نواز21 February, 2008 | پاکستان وکلاء رہنما سمیت دس جج تعینات09 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||