سپریم کورٹ:تین ججوں کا حلف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد معزول کیے جانے والے سپریم کورٹ کے بارہ ججوں میں سے تین ججوں نے جمعہ کے روز اپنے عہدوں کا دوبارہ حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف اٹھانے والے ججوں میں جسٹس شاکر اللہ جان، جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس جمشید علی شاہ شامل ہیں۔ سیکرٹری قانون آغا رفیق نے کہا کہ سپریم کورٹ کے بعض مزید معزول جج بھی جلد حلف اٹھا لیں گے۔ اس سے قبل پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کرنے والے پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویزنے جمعہ کو اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اٹھا لیا تھا۔
وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے حلف برداری کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حلف اُٹھانے والے ان ججوں کی سنیارٹی متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی آئینی بحران نہیں ہے اور وکلاء جلاؤ گھیراؤ کی سیاست چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پہلے حلف لے کر عدلیہ میں آئیں اور بطور جج حلف لیں اُس کے بعد سوچا جائےگا کہ آیا افتخار محمد چوہدری چیف جسٹس بن سکتے ہیں یا کوئی اور۔ ایک سوال کے جواب میں فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون ملک کی بہتری کے لیے اتحاد میں واپس آجائیں۔ اس سے قبل پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کرنے والے پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویزنے جمعہ کو اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اٹھا لیا تھا۔ وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق حکومت سپریم کورٹ کے اُن ججوں کے ساتھ رابطے میں ہیں جنہوں نے تین نومبر سنہ دوہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے بعد حلف نہیں اُٹھایا تھا۔ ان ججوں میں جسٹس رانا بھگوان داس ریٹائرڈ ہوچکے ہیں جبکہ جسٹس جاوید اقبال نے معزول ہونے کے بعد پاکستان پریس کونسل کے چیئرمین کا حلف اُٹھایا تھا بعدازاں وہ اس عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پانچ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔ اُن میں سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس جاوید بُٹر، جسٹس نواز عباسی اور جسٹس سید سعید اشہد شامل ہیں۔ ان ججوں میں سے جسٹس نواز عباسی ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے علاوہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس سردار رضا خان، جسٹس چوہدری اعجاز اور جسٹس راجہ فیاض بھی اُن ججوں میں شامل ہیں جنہیں تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھروں میں نظر بند کردیا گیا تھا۔ وکلاء اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ معزول ججوں سے حلف لے کر اُنہیں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے معزول کیے گئے ججوں کو بحال تو کیا جاسکتا ہے اُن کی دوبارہ تعیناتی نہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ان تین ججوں کے دوبارہ حلف لینے سے معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے وکلاء تحریک کو شدید دھچکا لگا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||