ایمرجنسی - تین نومبر کو وکلاء کا یومِ سیاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ برس پاکستان میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کو ایک سال پورا ہونے پر ملک بھر کے وکلاء، سول سوسائٹی کے نمائندے اور صحافی سوموار کے روز یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ یہ ایمرجنسی تین نومبر کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی حیثیت سے لگائی گئی تھی۔ پیر کو ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے علاوہ عدالتی بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ پرویز مشرف نے گزشتہ برس تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی لگاتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت ملک کی اعلٰی عدلیہ کے درجنوں ججوں کو برطرف کر کے انہیں گھروں میں نظر بند کرنے کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا پر بھی متعدد پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے باعث بیشتر ٹیلی ویژن چینلز کئی روز تک بند رہے تھے۔ ایمرجنسی کا نفاذ اور ججوں کی معزولی ایسے موقع پر کی گئی تھی جب کہ سپریم کورٹ پرویز مشرف کے عہدہ صدارت کی قانونی حیثیت کے بارے میں فیصلہ دینے والی تھی۔ وکلا تحریک کے شعلہ بیان رہنما علی احمد کرد کی سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں کامیابی کے تناظر میں وکلاء تنظیمیں یوم سیاہ کو کامیاب شو بنانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن نے اعلان کر رکھا ہے کہ جسٹس افتخار چوہدری اس موقع پر ایمرجنسی کے نفاذ کے پس پردہ محرکات اور اس روز پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اہم انکشافات کریں گے۔ پیر کی دوپہر راولپنڈی بار میں تقریب کے اختتام کے بعد وکلاء ایک ریلی کی صورت میں اسلام آباد جائیں گے جہاں سپریم کورٹ کے باہر علامتی دھرنا دیا جائے گا۔ اعلان کے مطابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اس ریلی اور دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے۔ اسلام آباد کے خصوصی ریڈ زون میں واقع شاہراہ دستور پر اس متوقع دھرنے کے پیش نظر اسلام آباد انتظامیہ نے پہلے سے موجود سخت حفاظتی انتظامات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ اس روز بھی عام دنوں کی طرح غیر متلقہ افراد کو شاہراہ دستور پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس پر سپریم کورٹ کی عمارت موجود ہے۔ سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے گزشتہ روز اسی موضوع پر ہونے والے ایک خصوصی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشیر داخلہ رحمٰن ملک کی ہدایت کی روشنی میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس اور قانون کے نفاذ سے متعلق دیگر اداروں کو تین نومبر کے روز خصوص طور پر چوکس رہنے کا حکم دیتے ہوئے ان دونوں شہروں میں سیکیورٹی کو ’ہائی الرٹ‘ کر دیا گیا ہے۔
وکلاء رہنماؤں نے اس تجویز سے اتفاق نہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سامنے ہی دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ وکلاء تحریک کے ایک رہنما جسٹس (ر) طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر وکلاء کو سپریم کورٹ کی جانب جانے سے طاقت کے ذریعے روکا گیا تو اس سے ہمارے اس موقف کی تائید ہوگی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت وکلاء تحریک کے بل پر حکومت بنانے کے بعد وکلاء سے غداری کی مرتکب ہو رہی ہے۔‘ یوم سیاہ کے موقع پر ملک بھر کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے بھی اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس یوم سیاہ میں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتیں اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے بھی شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس بارے میں ان کی جانب سے زیادہ سرگرمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔ |
اسی بارے میں مقاصد پورے ہو گئے: مشرف15 December, 2007 | پاکستان ٹی وی چینلز پر پابندی، مظاہرے17 November, 2007 | پاکستان ’منظم احتجاجی تحریک کی ضرورت‘13 November, 2007 | پاکستان ماتحت عدالتوں میں ہڑتال جاری12 November, 2007 | پاکستان سندھ احتجاج، پولیس کی شیلنگ09 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی،عدلیہ میں تبدیلیاں،میڈیا پر پابندیاں04 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودہری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی نافذ، آئین معطل، جسٹس چودھری برطرف، پریس پر پابندیاں03 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||