BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 November, 2008, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمرجنسی - تین نومبر کو وکلاء کا یومِ سیاہ

احتجاج( فائل فوٹو)
پرویز مشرف نے گزشتہ برس تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی لگائی تھی
گزشتہ برس پاکستان میں لگائی جانے والی ایمرجنسی کو ایک سال پورا ہونے پر ملک بھر کے وکلاء، سول سوسائٹی کے نمائندے اور صحافی سوموار کے روز یوم سیاہ منا رہے ہیں۔

یہ ایمرجنسی تین نومبر کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی حیثیت سے لگائی گئی تھی۔ پیر کو ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے علاوہ عدالتی بائیکاٹ کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

پرویز مشرف نے گزشتہ برس تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی لگاتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت ملک کی اعلٰی عدلیہ کے درجنوں ججوں کو برطرف کر کے انہیں گھروں میں نظر بند کرنے کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا پر بھی متعدد پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے باعث بیشتر ٹیلی ویژن چینلز کئی روز تک بند رہے تھے۔

ایمرجنسی کا نفاذ اور ججوں کی معزولی ایسے موقع پر کی گئی تھی جب کہ سپریم کورٹ پرویز مشرف کے عہدہ صدارت کی قانونی حیثیت کے بارے میں فیصلہ دینے والی تھی۔

 مشیر داخلہ رحمٰن ملک کی ہدایت کی روشنی میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس اور قانون کے نفاذ سے متعلق دیگر اداروں کو تین نومبر کے روز خصوص طور پر چوکس رہنے کا حکم دیتے ہوئے ان دونوں شہروں میں سیکیورٹی کو ’ہائی الرٹ‘ کر دیا گیا ہے
سیکرٹری داخلہ کمال شاہ
’ایمرجنسی پلس‘ کے نام سے مشہور ہونے والے پاک فوج کے سربراہ کے ان اقدامات کے خلاف یوم سیاہ کی سب سے بڑی اور مرکزی تقریب راولپنڈی کی ضلع کچہری میں منعقد ہو گی جس سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری خطاب کریں گے۔

وکلا تحریک کے شعلہ بیان رہنما علی احمد کرد کی سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں کامیابی کے تناظر میں وکلاء تنظیمیں یوم سیاہ کو کامیاب شو بنانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اعتزاز احسن نے اعلان کر رکھا ہے کہ جسٹس افتخار چوہدری اس موقع پر ایمرجنسی کے نفاذ کے پس پردہ محرکات اور اس روز پیش آنے والے واقعات کے بارے میں اہم انکشافات کریں گے۔

پیر کی دوپہر راولپنڈی بار میں تقریب کے اختتام کے بعد وکلاء ایک ریلی کی صورت میں اسلام آباد جائیں گے جہاں سپریم کورٹ کے باہر علامتی دھرنا دیا جائے گا۔ اعلان کے مطابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اس ریلی اور دھرنے میں شریک نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد کے خصوصی ریڈ زون میں واقع شاہراہ دستور پر اس متوقع دھرنے کے پیش نظر اسلام آباد انتظامیہ نے پہلے سے موجود سخت حفاظتی انتظامات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ اس روز بھی عام دنوں کی طرح غیر متلقہ افراد کو شاہراہ دستور پر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس پر سپریم کورٹ کی عمارت موجود ہے۔

سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے گزشتہ روز اسی موضوع پر ہونے والے ایک خصوصی اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشیر داخلہ رحمٰن ملک کی ہدایت کی روشنی میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی پولیس اور قانون کے نفاذ سے متعلق دیگر اداروں کو تین نومبر کے روز خصوص طور پر چوکس رہنے کا حکم دیتے ہوئے ان دونوں شہروں میں سیکیورٹی کو ’ہائی الرٹ‘ کر دیا گیا ہے۔

ایمرجنسی کے خلاف ملک میں مسلسل مظاہرے ہوئے
کمال شاہ نے کہا کہ حکومت کے فیصلے کے مطابق وکلاء کی ریلی اور دھرنے کو سہولت فراہم کی جائے گی تاہم بہتر یہی ہے کہ یہ دھرنا سپریم کورٹ کی عمارت کے بجائے پریڈ گراؤنڈ والی جگہ پر ہو جہاں تیرہ اور چودہ جون کی درمیانی شب وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے لانگ مارچ کے اختتام پر دھرنا دیا تھا۔

وکلاء رہنماؤں نے اس تجویز سے اتفاق نہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سامنے ہی دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔

وکلاء تحریک کے ایک رہنما جسٹس (ر) طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر وکلاء کو سپریم کورٹ کی جانب جانے سے طاقت کے ذریعے روکا گیا تو اس سے ہمارے اس موقف کی تائید ہوگی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت وکلاء تحریک کے بل پر حکومت بنانے کے بعد وکلاء سے غداری کی مرتکب ہو رہی ہے۔‘

یوم سیاہ کے موقع پر ملک بھر کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے بھی اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس یوم سیاہ میں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتیں اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے بھی شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس بارے میں ان کی جانب سے زیادہ سرگرمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔

جسٹس طارق پرویز ’فورا بحال کریں ‘
پارلیمنٹ فوری طور پر ججوں کو بحال کرے
جسٹس رمدے سوال نوکری کا نہیں
’آئینی طور پر میں ابھی بھی جسٹس ہوں‘
بھگوان دس سنیچر کو ریٹائر ہورہے ہیں’آئین سے انحراف‘
نئے حلف آئین سے انحراف: معزول ججز
ہیومن رائٹس واچ’عدلیہ بحال کرو‘
آئین کی نام نہاد بحالی ہوئی: ہیومن رائٹس واچ
طلباء کہاں ہیں؟
’پاکستانی طلباء کا جوش و ولولہ کہاں گیا؟‘
بکھرتے ہوئے ادارے
پاکستان کے ریاستی ادارے بکھر رہے ہیں
ایمرجنسی کا دسواں دنایمرجنسی دسواں دن
بینظیر نظربند، مختلف شہروں میں گرفتاریاں
اسی بارے میں
مقاصد پورے ہو گئے: مشرف
15 December, 2007 | پاکستان
سندھ احتجاج، پولیس کی شیلنگ
09 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد