BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 November, 2007, 19:24 GMT 00:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماتحت عدالتوں میں ہڑتال جاری

پیر کو احتجاج کے ساتھ ہی وکلاء کا احتجاج دوسرے ہفتے میں شامل ہو گیا ہے
ملک بھر میں وکلاء تنظیموں کی جانب سے سوموار کے روز بھی ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رہا البتہ کراچی میں وکلاء نے پاکستان بار کونسل کے فیصلے کے مطابق صرف ایک گھنٹے کے لیے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ۔

پاکستان بار کونسل کے فیصلے کے مطابق سوموار بارہ نومبر سے ماتحت عدالتوں میں صرف ایک گھنٹے کی جزوی ہڑتال کی جانی تھی۔ لیکن کراچی کے علاوہ ملک کے دیگر اہم شہروں بشمول لاہور، راولپنڈی اسلام آباد ، پشاور اور کوئٹہ میں وکلاء تنظیموں کی جانب سے اعلیٰ عدالتوں سمیت ماتحت عدالتوں کا بھی پورے دن کے لیے بائیکاٹ جاری رکھا گیا ۔


ملتان سے پاکستان بار کونسل کے وائس چئرمین عزیز اکبر بیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ بار کونسل کا تو یہی فیصلہ ہے کہ بارہ نومبر سے ماتحت عدالتوں میں صرف ایک گھنٹے کی روزانہ ہڑتال کی جائے گی۔ لیکن ساتھ ہی تمام بارکونسلوں کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہڑتال جاری رکھنے کے حوالے سے فیصلہ کر سکتی ہیں‘ ۔

اُن کا کہنا تھا کہ کئی شہروں میں پیر کے روز بھی ماتحت عدالتوں کا پورے دن کے لیے بائیکاٹ کیا گیا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انُہوں نے کہا کہ ضلعی بار کونسلوں کا موقف ہے کہ اُن کے ارکان کی بڑی تعداد تاحال گرفتار ہے لہذٰا جب تک گرفتار وکلاء کو رہا نہیں کیا جاتا تب تک ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے گا ۔

اسی حوالے سے لاہور میں ضلعی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک اعلان کیا گیا ہے کہ جب تک گرفتار کیے گئے وکلاء کو رہا نہیں کیا جائے گا تب تک ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رہے گا ۔


البتہ پشاور میں وکلاء تنظیموں کے فیصلے کے مطابق ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ غیر معینہ مدت تک جاری رہکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے پشاور بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر فدا گل ایڈوکیٹ نے، جو کہ عبوری آئینی حکم کے خلاف وکلا ء کی جانب سے چلائی جانے والی تحریک کے پشاور میں ایک اہم رہنما ہیں، بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور میں ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ کم از کم موجودہ ہفتے میں تو جاری رہے گا ۔

ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں بھی وکلاء کی بھوک ہڑتال اور اعلیٰ عدالتوں کا بائیکاٹ سوموار کے روز بھی جاری رہا۔
پیر کے روز پشاور میں دس وکلاء نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چند مقررین کی جانب سے ماتحت عدالتوں کے بائیکاٹ کو ختم کرنے کا مشورہ دیا گیا جسے حاضرین کی بڑی تعداد نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح وکلاء کے اتحاد اور اتفاق کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

وکلاء رہنماؤں کا مطالبہ تھا کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے عبوری آئینی حکم کی موجودگی میں آئندہ عام انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا جانا چاہیے ۔

پیر کے روز بھوک ہڑتالی کیمپ میں جماعتِ اسلامی اور عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ طلباء تنظیموں کے ارکان نے بھی شرکت کی اور وکلاء کی تحریک میں سرگرمی سے حصہ لینے کا اعلان کیا ۔ طلباء تنظیموں کے نمائندوں نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ منگل کے روز سے ’گھیراؤ اور جلاؤ ’ کی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے احتجاج میں حصہ لیں گے ۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ماتحت عدالتوں میں آج کافی گہما گہمی دیکھنے میں آئی البتہ وکلا ء نے گیارہ بجے کے بعد ایک گھنٹے کے لیے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔

سپریم کورٹ کے جج(فائل فوٹو)غلامی پر ضمیر بھاری
’عدلیہ کی اکثریت کیلیے ضمیر کی آواز اہم ہے‘
ڈوگرحلف کا نمبر گیم
انتالیس ججوں نے حلف نہیں لیا 48 نے لے لیا
گورنر سرحد گورنر سرحد نے کہا
مغویوں کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے
اسی بارے میں
اب تک 48 ججوں نےحلف لیا ہے
05 November, 2007 | پاکستان
معزول جج کو حکومت کے’ آفرز‘
07 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد