BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طلبہ تحریکیں خاموش کیوں؟

پاکستان میں طلباء کی جانب سے احتجاج(فائل فوٹو)
پاکستان میں طلباء کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ آہستہ آہستہ زور پکڑ رہا ہے(فائل فوٹو)
ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کو قریباً دو ہفتے کا عرصہ گزر گیا ہے مگر پاکستان میں طلبہ تنظیموں کی جانب سے وہ ردعمل اور احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا جو ماضی میں ان کا خاصہ رہا ہے۔

جنرل ضیاءالحق کے دور تک اُٹھنے والی طلبہ تحریکوں میں دائیں اور بائیں بازو کی قوتیں تمام تر نظریاتی اختلافات کے باوجود کسی ایک نکتے پر متفق ہو کر اپنی تحریک چلاتے تھے۔ اُن کے سامنے ایک ہدف ہوتا تھا، خواہ وہ مہنگائی کی صورت میں ہو، فیسوں میں اضافے یا حکمرانوں کی پالیسی یا مارشل لاء کے نفاذ کی شکل میں۔

مگر آج کے طلبہ میں وہ جوش اور ولولہ نظر نہیں آتا جس کی وجہ این ایس ایف کے سابق رہنماء پروفیسر خورشید حسن کے مطابق نظریے کا فقدان اور مایوسی ہے۔

پروفیسر خورشید جنرل ضیاء الحق کے دور میں کراچی یونیورسٹی کے جنرل سیکرٹری رہے اُن کا کہنا ہے کہ گزشتہ پندرہ بیس برسوں سے سیاست میں طلبہ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے جس کی ایک وجہ اُن کا سیاسی جماعتوں پر سے اعتماد کا اُٹھنا ہے۔’آج کے طلبہ جن کا کسی سیاسی گروپ سے تعلق نہیں وہ سیاسی جماعتوں کی سیاست کو مفاد کی سیاست سمجھتے ہیں‘۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’پہلے وقت میں ڈی ایس ایف اور این ایس ایف کی تحریکیں منظم ہوتی تھیں اور اُن کا واضع ایجنڈہ ہوتا تھا مگر اب ایسا نظر نہیں آتا اس وقت طلبہ کا اُٹھنا بہت مشکل ہے‘۔

 آج کے طلبہ جن کا کسی سیاسی گروپ سے تعلق نہیں وہ سیاسی جماعتوں کی سیاست کو مفاد کی سیاست سمجھتے ہیں۔
پروفیسر خورشید حسن

گو کہ سابقہ ادوار میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیمیں زیادہ سرگرم اور فعال رہی تھیں، مگر دائیں بازو کی قوت اسلامی جمعیت طلبہ کا بھی ان تحریکوں میں اہم کردار رہا ہے۔

پروفیسر منور حسن اس وقت جماعتِ اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنماء ہیں انہون نے سیاست کی ابتداء بائیں بازو کے جماعت کے ساتھ کی اور بعد میں نظریاتی اختلافات کی بناء پر دائیں بازو میں شامل ہوئے وہ ایوب خان کے دور حکومت سے لے کر ضیاء دور تک طلبہ سیاست میں فعال رہے۔

پروفیسر منور حسن کہتے ہیں کہ’ہم تاشقند معاہدے، پینسٹھ کی جنگ، اکہتر کے فسادات اور دیگر طلبہ مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلے اور حکومتوں کو اپنے مطالبات منوانے پر مجبور کیا‘۔ اُن کا کہنا ہے کہ قومی اور بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے طلبہ کو اُٹھنا چاہیے، یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ طلبہ کا سیاست سے تعلق نہیں ہوتا‘۔

اُنہوں نے کہا کہ’آج ملک میں ایمرجنسی ہے لوگوں کے سوچنے، بولنے اور سُننے پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تمام طلبہ کو یونین کی بحالی کی کوششیں کرنی چاہیئیں‘۔

سابق طالبعلم رہنماء اور آج کل این ای ڈی یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دنے والے پروفیسر محمد نعمان کا کہنا ہے کہ اس وقت طلبہ کی خاموشی کی ایک اہم وجہ مڈل اور لوئر مڈل کلاس طبقے کی سیاست سے دوری ہے جو دراصل دانشور پیدا کرتا تھا۔ اس طبقے کی دوری کی اہم وجہ معاشی پریشانیاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کلاس سے اب جو طلبہ آتے ہیں انہیں جہادی اور مذہبی عناصر اپنی جانب مائل کرلیتے ہیں۔

پروفیسر نعمان کا کہنا ہے کہ طلبہ تحریکوں کے لیے سب سے بدتر دور جنرل ضیاءالحق کا تھا جب طلبہ میں گن کلچر متعارف ہوا اور ایجنسیز کا طلبہ تحریکوں میں عمل دخل بڑھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد