ملتان بار، کھوسہ کا نام حذف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جنوبی پنجاب کے وکلاء نے ایک قرارداد کے ذریعے اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کا نام ملتان ہائی کورٹ بار کے رول آف آنر سے مٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ لطیف کھوسہ کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ اسّی کی دہائی کے آغاز میں لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کے وجود میں آنے کے بعد لطیف کھوسہ ملتان ہائی کورٹ بار کے پہلے صدر تھے جس کے بعد وہ مزید دو دفعہ بار کے صدر بنے۔ ملتان ہائی کورٹ بار کے جنرل سیکرٹری رانا نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹھائیس اکتوبر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے بعد بار کی تمام اعزازی تختیوں پر درج اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کے نام پر سیاہ رنگ کر دیا جائے گا۔ لطیف کھوسہ کا نام رول آف آنر سے مٹانے کی تجویز پیر کو ملتان ہائی کورٹ بار میں جنوبی پنجاب کی بیالیس ڈویژنل اور سب ڈویژنل بارز کے نمائندوں کے ایک اجلاس میں پیش کی گئی تھی۔ اس قرارداد میں الزام لگایا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملتان ہائی کورٹ بار اور بہاولپور ہائی کورٹ بار کے معاملات میں مداخلت کی ہے۔
قراردار میں پاکستان بار کونسل کے ان اراکین کو اٹارنی جنرل کے حواری اور وکلاء تحریک مخالف قرار دیا گیا ہے جنہوں نے ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر محمود اشرف خان، سیکرٹری جنرل رانا نوید، بہاولپور کے سات وکلاء اور ڈسٹرکٹ بار پشاور کے صدر کے لائسنس منسوخ کرنے کا مبینہ غیر آئینی اعلان کیا اور ان کی جگہ پر کیئر ٹیکر عہدیداران مقرر کیے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے وکلاء معذول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو عدلیہ کی آزادی اور مضبوطی کی علامت سمجھتے ہیں اور ان کے علاوہ کسی کو بھی چیف جسٹس تسلیم نہیں کریں گے۔ | اسی بارے میں ملک قیوم مستعفی، کھوسہ اٹارنی جنرل20 August, 2008 | پاکستان سپریم کورٹ بار کے انتخابات آج27 October, 2008 | پاکستان لاہور: چار ججوں نےحلف اٹھا لیا 30 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||