سپریم کورٹ بار، ووٹنگ ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات کے لیے اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں پولنگ ختم ہو گئی ہے اور ووٹنگ کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد لاہور میں ناخوشگوار واقع اس وقت پیش آیا جب سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم اپنا ووٹ ڈال کر جا رہے تھے کہ ایک خاتون وکیل نے ان کے خلاف نعرہ بازی کی جس پر پیپلز لائر فورم کے وکیل نے جوابی نعرے لگائے۔ ملک قیوم اس وقت چلے گئے لیکن کچھ دیر بعد دوبارہ آئے اور پیپلز لائر فورم کے وکلاء کے حصار میں بلڈنگ میں داخل ہوئے۔ اس موقعے پر دونوں طرف کے وکلاء میں سخت نعرہ بازی ہوئی۔ ملک بھر میں تیرہ سو پچاس وکلا ووٹ دینے کے اہل ہیں جن میں سے پانچ سو سے زیادہ لاہور میں رجسٹرڈ ہیں۔ انتخابات میں بائیس عہدوں کے لیے پچاس کے قریب امیدوار میدان میں ہیں۔ بار کی صدارت کے لیے وکلا تحریک کے سرگرم رہنما علی احمد کرد اور سابق سینیٹر ایم ظفر کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے جو جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔ صدارت کا منصب باری باری سے ہر صوبے کے حصے میں آتا ہے۔اس مرتبہ دونوں صدارتی امیدواروں کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا تعلق بھی صوبہ بلوچستان ہے۔ علی احمد کرد کو سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن ، حامد خان ، منیر ملک اور طارق محمود کی حمایت حاصل ہے جبکہ دوسری جانب سے اٹارنی جنرل پاکستان سردار لطیف خان کھوسہ ، پیپلز پارٹی کے وکلا ونگ پیپلز لائیرز فورم ، سابق اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم اور اشرف واہلہ گروپ ایم ظفر کے ساتھ ہیں۔
سیکریٹری کے عہدے کے لیے حامد خان گروپ کے شوکت عمر پیرزادہ سامنے آئے ہیں جبکہ ان کا مقابلہ قمرالزمان قریشی اور سید جمیل احمد سے ہے۔ چاروں صوبوں سے نائب صدارت کی ایک ایک نشست پر دو ، دو امیدوار آمنے سامنے ہیں جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری کے لیے تین اور فنانس کے عہدے کے لیے دو امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔ سپریم کورٹ بار کے انتخابات کے غیر سرکاری نتائج کا اعلان رات کو ہی کر دیا جائے گا تاہم سرکاری طور پر نتائج کا اعلان اکتیس اکتوبر کو کیا جائے گا۔ علی احمد کرد کے گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ انتخاب میں بڑے پیمانے پر حکومت کی جانب سے مداخلت کی جارہی ہے۔ ادھر کراچی میں اسلامک لائیرز فورم اور صوبہ سرحد میں قاف لیگ نے مسٹر کرد کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ بلوچستان میں قاف لیگ ایم ظفر کی حمایت کر رہی ہے۔ مبصرین ان انتخابات کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اگر اعتزاز احسن یا حامد خان گروپ ان انتخابات میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے دیگر ججوں کی بحالی کے لیے جاری تحریک میں تیزی آئے گی۔ اور اگر انتخابات میں حکومت کا حمایتی گروپ کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو وکلا تحریک کو دھچکا لگے گا۔ | اسی بارے میں سپریم کورٹ بار انتخاب اگلے مہینے 13 September, 2008 | پاکستان بار کونسل،’ کردار تحریک کے منافی‘13 October, 2008 | پاکستان وکلاء کی سرگرمیاں اب سندھ سے14 October, 2008 | پاکستان تین نومبر،ججوں کی تقرری غیر آئینی19 October, 2008 | پاکستان کرد کے آنسو27 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||