BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 October, 2008, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کی سرگرمیاں اب سندھ سے

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اٹھارہ اکتوبر کو کراچی پہنچ رہے ہیں، جہاں سے وہ جلوس کے ساتھ حیدرآباد کے لیئے روانہ ہوں گے
پاکستان میں وکلا تنظیموں نے ججوں کی بحالی کی تحریک کو سرگرم کرنے کے لیے صوبہ سندھ سے اپنی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی سلسلے میں سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اٹھارہ اکتوبر کو کراچی پہنچ رہے ہیں، جہاں سے وہ جلوس کے ساتھ حیدرآباد کے لیئے روانہ ہوں گے۔

کراچی بار کے صدر محمود الحسن اور سیکریٹری جنرل نعیم قریشی نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری صبح گیارہ بجے ایئرپورٹ پہنچیں گے، جہاں سے انہیں ملیر بار لایا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ تمام وکلا، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے کارکن ملیر بار میں جمع ہوں گے، جہاں سے وہ جلوس کی صورت میں بذریعہ سپر ہائی وے حیدرآباد پہنچیں گے۔ اسی جگہ شام چار بجے جسٹس افتخار محمد چودھری وکلا کنوینشن سے خطاب کریں گے۔

اسی روز یعنی اٹھارہ اکتوبر کو حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے بھی کراچی سمیت سندھ بھر میں بینظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر حملے کی یاد میں تقاریب منعقد کی جارہی ہیں اور شاہراہ فیصل پر کارساز کے مقام پر وزیراعلیٰ قائم علی شاہ ایک یادگار کا افتتاح کریں گے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے اعلان کیا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری تئیس اکتوبر کو لاہور میں وکلا کے کنوینشن میں شریک ہوں گے، جس میں وکلا تحریک میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے وکلا میں تعریفی سرٹیفکیٹ تقسیم کریں گے۔

پندرہ نومبر کو حیدرآباد میں بھی اسی نوعیت کی تقریب منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا جس میں تبدیلی کی گئی ہے۔

کراچی بار کے صدر محمود الحسن کا کہنا ہے کہ وکلا کی تحریک جاری ہے اور جسٹس افتخار محمد چودھری کے دورے سے اس میں تیزی آئے گی۔ ان کے مطابق وکلا بھی اٹھارہ اکتوبر کے واقعہ کی مذمت کرتے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ اس واقعہ اور بینظیر بھٹو کے حملہ آوروں کو گرفتار کیا جائے۔

یاد رہے کہ بارہ مئی واقعہ کے بعد رواں سال انتیس جولائی کو بھی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کراچی آئے تھے، مگر ان کے استقبال میں سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کے تعداد نہایت کم رہی تھی۔

کراچی بار کے صدر محمود الحسن کا کہنا ہے کہ اس بار بھر پور استقبال کیا جائے گا اور اس سلسلے میں تمام جماعتوں سے رابطہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد