BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 October, 2008, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء لائحہ عمل کا فیصلہ سوموار کو

وکلاء تحریک(فائل فوٹو)
رمضان کی وجہ سے وکلاء نے احتجاجی جلسوں کا سلسلہ مؤخر کر دیا تھا
پاکستان میں سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر ججوں کی بحالی کے لیے جاری وکلاء تحریک کے مستقبل کا لائحہ عمل پیر کو مرکزی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔

ماہ رمضان کی وجہ سے وکلاء نے اپنی سرگرمیاں بند کر دی تھیں اور اب عید کے بعد سندھ ہائیکورٹ بار میں کل مرکزی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس کی صدارت سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کریں گے۔

اس اجلاس میں علی احمد کرد، حامد خان کے علاوہ چاروں عدالتِ عالیہ اور سپریم کورٹ بار سمیت لاہور، کوئٹہ، ملتان اور کراچی بار کے صدور بھی شرکت کریں گے۔

کراچی بار کے صدر محمود الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میں وکلاء تحریک کے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وکلاء کے پاس یہ تجویز ہے کہ چاروں صوبوں میں وکلاء کنونشن منعقد کیے جائیں جس میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری شریک ہوں اور ان اجلاسوں کی ابتداء اندرون سندھ کی کسی بار سے کی جائے۔

News image
 حکومتی مشیروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وکلاء تحریک ختم ہوگئی ہے، درحقیقت رمضان کی وجہ سے اس میں وقفہ آگیا تھا، اب یہ تحریک ایک مرتبہ پھر اپنے عروج پر ہوگی
رشید رضوی

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کوئی آخری مارچ نہیں تھا اور دوبارہ مارچ بھی زیر غور ہے۔

سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر رشید رضوی کا کہنا ہے کہ ’حکومتی مشیروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وکلاء تحریک ختم ہوگئی ہے، درحقیقت رمضان کی وجہ سے اس میں وقفہ آگیا تھا، اب یہ تحریک ایک مرتبہ پھر اپنے عروج پر ہوگی‘۔

وکلاء مرکزی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کے بارے میں پیر کی شام کو ذرائع ابلاغ کو آگاہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ سندھ کے اکثر ضلعی بار کے صدور پیپلز لائرز فورم سے تعلق رکھتے ہیں اور وکلاء رہنما ممکنہ طور پر جسٹس افتخار محمد چودھری کے اندرونِ سندھ دوروں اور قوم پرستوں اور وکلاء کے ذریعے پیپلز پارٹی پر دباؤ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے جن چودہ ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کیا تھا ان میں سے دس جج دوبارہ حلف لے کر واپس عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں جبکہ جسٹس صبیح الدین احمد سپریم کورٹ میں تعینات ہوچکے ہیں۔سندھ میں اکثر ججوں کے دوبارہ تقرری لینے کے فیصلے سے وکلاء کی جدوجہد بھی متاثر ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
ڈوگر عمرے پر، رضا چیف جسٹس
25 September, 2008 | پاکستان
مزید چار ججوں نےحلف اٹھا لیا
20 September, 2008 | پاکستان
جسٹس صبیح کو بھی پیشکش ہوگئی
18 September, 2008 | پاکستان
پشاور: معزول چیف جسٹس کا حلف
05 September, 2008 | پاکستان
وکلاء کےدھرنے پر لاٹھی چارج
04 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد