BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 September, 2008, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس صبیح کو بھی پیشکش ہوگئی

صبیح الدین
براہ راست سپریم کورٹ میں مقرر کیا گیا تو وہ یہ پیشکش قبول کرنے کے لیے تیار ہیں
سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے بھی جسٹس افتخار محمد چودھری کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور انہوں نے تصدیق کر دی ہے کہ انہیں سپریم کورٹ میں تعیناتی کی پیشکش کی گئی ہے۔

پورے ملک میں جب جمعرات کو وکلاء تنظیمیں معزول ججوں کی بحالی کے لیے سراپا احتجاج تھے، مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے جسٹس صبیح الدین نے بتایا کہ اگر انہیں براہ راست سپریم کورٹ میں مقرر کیا گیا تو وہ یہ پیشکش قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان کی یہ تعیناتی آئین کے تحت ہوگی۔

مبصرین جسٹس سرمد جلال عثمانی کے بعد جسٹس صبیح الدین احمد کی واپسی کو حکومت کی دوسری بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

وزرات قانون کے ذرائع کا کہنا ہے سپریم کورٹ میں چار ججوں کی تعیناتی کے لیے سمری ایوان صدر بھیجی جا رہی ہے جن میں جسٹس صبیح الدین اور جسٹس سرمد جلال شامل ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے دو دیگر معزول جج صاحبان ہیں۔

دیگر معزول ججوں میں سے جسٹس رحمت حسین جعفری اور جسٹس ارشد سراج میمن ریٹائر ہوچکے ہیں، باقی جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر رہ جاتے ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے دوبارہ تقرری سے واضح طور پر انکار کیا ہے۔ جمعرات کو کراچی بار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی راہ پر چلنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ وہ وکلاء کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے۔

ہائی کورٹس کے نو جج باقی رہ گئے
 تین ہائی کورٹس کے صرف نو معزول جج رہ گئے ہیں، جن میں پنجاب ہائی کورٹ کے پانچ جسٹس خواجہ شریف، جسٹس ساحر علی، جسٹس ایم شاہد صدیقی، جسٹس اقبال حمید الدین اور جسٹس چودھری اعجاز، سندھ ہائی کورٹ کے دو جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر اور پشاور کے جسٹس اعجاز افضل شامل ہیں

واضح رہے کہ رواں سال بائیس مئی کو سٹی کورٹ میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خطاب کی تقریب کے موقع پر جسٹس صبیح الدین نے اپنے خطاب میں تصدیق کی تھی کہ حکومت نے ہائی کورٹ کے ججوں سے بحالی کے لیے رابطہ کیا ہے۔

’ہم نے کہا ٹھیک ہے اگر ہائی کورٹس بحال ہو سکتی ہیں تو انہیں تسلیم کرنے میں کوئی انکار نہیں ہے۔ مگر جب یہ کہا گیا کہ آپ کو نئے سرے سے مقرر کیا جائے گا تو پھر ہمارے لیے یہ چیز قابل قبول نہیں تھی کیونکہ اس کا مقصد اس اقدام کو تسلیم کرنا تھا جو غیر آئینی تھا۔‘

انیس سو انچاس کو حیدرآباد میں جنم لینے والے جسٹس صبیح الدین احمد اٹھائیس اپریل دو ہزار کو سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور پانچ اپریل دو ہزار پانچ میں انہوں نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا۔ ان کا تعلق ملک کے سیاسی اور ادبی گھرانے سے ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت ملک کی تین ہائی کورٹس کے صرف نو معزول جج رہ گئے ہیں، جن میں پنجاب ہائی کورٹ کے پانچ جسٹس خواجہ شریف، جسٹس ساحر علی، جسٹس ایم شاہد صدیقی، جسٹس اقبال حمید الدین اور جسٹس چودھری اعجاز، سندھ ہائی کورٹ کے دو جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر اور پشاور کے جسٹس اعجاز افضل شامل ہیں۔

اسی بارے میں
سپریم کورٹ:تین ججوں کا حلف
05 September, 2008 | پاکستان
پشاور: معزول چیف جسٹس کا حلف
05 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد