جسٹس صبیح کو بھی پیشکش ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے بھی جسٹس افتخار محمد چودھری کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور انہوں نے تصدیق کر دی ہے کہ انہیں سپریم کورٹ میں تعیناتی کی پیشکش کی گئی ہے۔ پورے ملک میں جب جمعرات کو وکلاء تنظیمیں معزول ججوں کی بحالی کے لیے سراپا احتجاج تھے، مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے جسٹس صبیح الدین نے بتایا کہ اگر انہیں براہ راست سپریم کورٹ میں مقرر کیا گیا تو وہ یہ پیشکش قبول کرنے کے لیے تیار ہیں اور ان کی یہ تعیناتی آئین کے تحت ہوگی۔ مبصرین جسٹس سرمد جلال عثمانی کے بعد جسٹس صبیح الدین احمد کی واپسی کو حکومت کی دوسری بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ وزرات قانون کے ذرائع کا کہنا ہے سپریم کورٹ میں چار ججوں کی تعیناتی کے لیے سمری ایوان صدر بھیجی جا رہی ہے جن میں جسٹس صبیح الدین اور جسٹس سرمد جلال شامل ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے دو دیگر معزول جج صاحبان ہیں۔ دیگر معزول ججوں میں سے جسٹس رحمت حسین جعفری اور جسٹس ارشد سراج میمن ریٹائر ہوچکے ہیں، باقی جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر رہ جاتے ہیں۔ جسٹس مشیر عالم نے دوبارہ تقرری سے واضح طور پر انکار کیا ہے۔ جمعرات کو کراچی بار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی راہ پر چلنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ وہ وکلاء کے ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے۔
واضح رہے کہ رواں سال بائیس مئی کو سٹی کورٹ میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خطاب کی تقریب کے موقع پر جسٹس صبیح الدین نے اپنے خطاب میں تصدیق کی تھی کہ حکومت نے ہائی کورٹ کے ججوں سے بحالی کے لیے رابطہ کیا ہے۔ ’ہم نے کہا ٹھیک ہے اگر ہائی کورٹس بحال ہو سکتی ہیں تو انہیں تسلیم کرنے میں کوئی انکار نہیں ہے۔ مگر جب یہ کہا گیا کہ آپ کو نئے سرے سے مقرر کیا جائے گا تو پھر ہمارے لیے یہ چیز قابل قبول نہیں تھی کیونکہ اس کا مقصد اس اقدام کو تسلیم کرنا تھا جو غیر آئینی تھا۔‘ انیس سو انچاس کو حیدرآباد میں جنم لینے والے جسٹس صبیح الدین احمد اٹھائیس اپریل دو ہزار کو سندھ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور پانچ اپریل دو ہزار پانچ میں انہوں نے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالا۔ ان کا تعلق ملک کے سیاسی اور ادبی گھرانے سے ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت ملک کی تین ہائی کورٹس کے صرف نو معزول جج رہ گئے ہیں، جن میں پنجاب ہائی کورٹ کے پانچ جسٹس خواجہ شریف، جسٹس ساحر علی، جسٹس ایم شاہد صدیقی، جسٹس اقبال حمید الدین اور جسٹس چودھری اعجاز، سندھ ہائی کورٹ کے دو جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مقبول باقر اور پشاور کے جسٹس اعجاز افضل شامل ہیں۔ | اسی بارے میں سپریم کورٹ:تین ججوں کا حلف05 September, 2008 | پاکستان پشاور: معزول چیف جسٹس کا حلف05 September, 2008 | پاکستان لاہور: چار ججوں نےحلف اٹھا لیا 30 August, 2008 | پاکستان سندھ ہائی کورٹ، آٹھ جج بحال27 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی کیلئےملک گیر دھرنا27 August, 2008 | پاکستان مسلم لیگ(ن) نے جلد بازی کی: پی پی25 August, 2008 | پاکستان جج بحال نہ ہوئے تودھرنا: اعتزاز23 August, 2008 | پاکستان یوم نجات، ججوں کی بحالی کا مطالبہ19 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||