BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 September, 2008, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپریم کورٹ بار انتخاب اگلے مہینے

وکلاء کا احتجاج(فائل فوٹو)
’اعتزاز احسن گروپ کامیاب ہوا تو وکلاء کی تحریک میں تیزی آئے گی‘
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے لیے شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے یہ انتخابات 28 اکتوبر کو ہوں گے جبکہ انتخابات کے نتائج کا اعلان اکتیس اکتوبر کو کیا جائے گا۔

سنیچر کے روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری چوہدری محمد امین جاوید کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی آٹھ اکتوبر کو اسلام آباد اور لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفاتر میں جمع کروائے جاسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں صرف وہی ارکان حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں جو 25 اکتوبر تک اپنے واجبات ادا کر دیں گے۔

علی احمد کرد
 اعتزاز احسن گروپ کی طرف سے وکیل رہنما علی احمد کُرد کا نام سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدہ صدارت کے اُمیدوار کے طور پر سامنے آیا ہے
اعتزاز گروپ
اس وقت اعتزاز احسن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہیں اور یہ گروپ افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے معزول ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دے رہا ہے۔

اعتزاز احسن گروپ کی طرف سے وکیل رہنما علی احمد کُرد کا نام سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدہ صدارت کے اُمیدوار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

مبصرین ان انتخابات کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں اور اُن کا کہنا ہے کہ اگر اعتزاز احسن گروپ ان انتخابات میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے دیگر ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جاری تحریک میں تیزی آئے گی اور اگر انتخابات میں حکومت کا حمایتی گروپ کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو وکلاء کی یہ تحریک جو پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں کے کچھ ججوں کی طرف سے نیا حلف اُٹھانے سے ماند پڑ چکی ہے، دم توڑ جائے گی۔

اعلیٰ عدالتوں کے کچھ ججوں بالخصوص سپریم کورٹ کے تین ججوں کے دوبارہ حلف اُٹھانے کے بعد وکلاء مختلف دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک دھڑا پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کے ساتھ بھی ہے۔

اسی بارے میں
وکلاء کےدھرنے پر لاٹھی چارج
04 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد