مزید چار ججوں نےحلف اٹھا لیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق صدر پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکمناے یا پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے کی پاداش میں معزول کیئے جانے والے ججوں میں سے مزید چار نے ہفتے کو اپنے عہدے کا نیا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف اٹھانے والوں میں سپریم کورٹ کے دو معزول ججز جسٹس سردار رضا خان اور جسٹس ناصر الملک جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے دو ججز جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس سرمد جلال عثمانی شامل ہیں۔ ان چاروں ججوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی طرف سے سن دو ہزار سات میں جاری ہونے والے عبوری آئینی حکمناے (پی سی او) کے تحت سیرپم کورٹ کے چیف جسٹس کا حلف اٹھانے والے جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے حلف لیا۔
حلف لینے سے پہلےصدارتی آرڈر بھی پڑھ کر سُُنایا گیا جس میں کہا گیاہے کہ صدر نے آئین کے ارٹیکل 177 کے تحت صدر نے ان ججوں کو سپریم کورٹ میں جج تعینات کیا ہے اور سپریم کورٹ کے ان معزول ججوں کی سنیارٹی متاثر نہیں ہوگی اور اُن کو وہی سنیارٹی ملے گی جو تین نومبر سنہ 2007 سے پہلے کی تھی جس وقت اُنہیں معزول کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کے ان ججوں کے حلف اُٹھانے کے بعد سپریم کورٹ کے صرف چھ معزول جج باقی رہ گئے ہیں۔ اُن میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس چوہدری اعجاز، جسٹس فلک شیر اور جسٹس راجہ فیاض شامل ہیں۔ جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے دو جج باقی ہیں جنہوں نے تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد حلف نہیں اُٹھایا تھا ان میں مقبول باقر اور مشیر عالم شامل ہیں۔ حلف بردرای کی تقریب کے بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حلف اُٹھانے والے جج جسٹس سردار رضا خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اُن کی دوبارہ تعیناتی وکلاء کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شخصیات پر نہیں بلکہ اداروں کی مضبوطی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوے فیصد معزول جج صاحبان واپس آچکے ہیں جبکہ باقی ماندہ جو جج واپس آنا چاہیں اُن کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے ساتھ امتیاز سلوک نہیں کیا جائے گا۔ وزیر قانون نے کہا کہ ملک میں ایک وقت میں صرف ایک ہی چیف جسٹس ہوسکتا ہے اور اس وقت عبدالحمید ڈوگر پاکستان کے چیف جسٹس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ رابطہ نہیں کیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ وہ مثبت رویہ اپنائیں اور اب ملک میں کوئی بھی پی سی او جج نہیں ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ موجودہ حکومت لوگوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے اور اس ضمن میں شام کی عدالتیں بھی قائم کی جا رہی ہیں جہاں پر چھوٹے اور قابل ضمانت مقدمات کی سماعت ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ عید کے بعد ملک کی پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور صوبائی وزراء قانون کا ایک اجلاس بُلایا گیاہے جس میں اس ضمن میں لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اس ماہ عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب روانہ ہو رہے ہیں اور اُن کی عدم موجودگی میں سپریم کورٹ کے سنیئر جج سردار رضا خان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے۔موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر آئندہ سال ریٹائر ہو رہے ہیں۔ | اسی بارے میں سپریم کورٹ، مزید ججوں کی تعیناتی19 September, 2008 | پاکستان انکاری ججوں کی اکثریت واپس18 September, 2008 | پاکستان سندھ: تین معزول جج پھر تعینات16 September, 2008 | پاکستان چھ ججوں کی ملازمت میں توسیع15 September, 2008 | پاکستان پشاور ہائی کورٹ: چیف جسٹس آمادہ04 September, 2008 | پاکستان سپریم کورٹ:تین ججوں کا حلف05 September, 2008 | پاکستان پشاور: معزول چیف جسٹس کا حلف05 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||