ریاض سہیل بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،کراچی |  |
 | | | وکلاء برداری میں یہ تاثر عام تھا کہ ان ججوں کو مستقل کیا جائے گا |
سندہ ہائی کورٹ کے چھ ایڈیشنل ججوں کی ملازمت کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔ ان ججوں میں وہ تین جج صاحبان بھی شامل ہیں جن کی گزشتہ دنوں دوبارہ تقرری کی گئی تھی۔ جسٹس محمود عالم رضوی، جسٹس عبدالرحمان فاروق پیرزادہ، جسٹس ظفر شیروانی، جسٹس سلمان انصاری اور جسٹس عبدالرشید کلوڑ کوگزشتہ سال ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا، جن کی ملازمت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ جسٹس ظفر شیروانی، جسٹس سلمان انصاری اور جسٹس عبدالرشید کلوڑ نے سابق صدر پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے سے انکار کیا تھا، گزشتہ دنوں انہوں نے حکومت کی پیشکش قبول کرتے ہوئے آئین کے تحت حلف لیا تھا۔ وکلاء برداری میں یہ تاثر عام تھا کہ ان ججوں کو مستقل کیا جائے گا، مگر اس کے برعکس صرف چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور ہائی کورٹ کے سابق جج رشید اے رضوی اسے غیر معمولی اقدام قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ججوں کی سینیارٹی تعیناتی کی تاریخ سولہ ستمبر دو ہزار سات سے تسلیم کی گئی تھی، پریکٹس تو یہ ہے کہ ایک سال کے بعد عبوری ملازمت کے بعد مستقل کردیا جاتا ہے یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ انہیں دوبارہ ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا ہے۔ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج جسٹس ارشد سراج میمن بھی ایڈیشنل جج تھے جن کی ملازمت کی مدت پیر کو ختم ہوگئی ہے، انہوں نے دوبارہ تقرری کی پیشکش قبول نہیں کی تھی۔
|