عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | معزول چیف جسٹس طارق پرویز نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے دوبارہ حلف لینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے |
صوبہ سندھ اور پنجاب کے معزول ججوں کی جانب سے دوبارہ حلف لینے کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز نے بھی دوبارہ حلف اٹھانے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق دیگر تین معزول ججز کو بھی قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کے آمادہ ہونے کی توقع ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس طارق پرویز نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے دوبارہ حلف لینے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیل اور وجوہات بتانے سے انکار کیا۔
انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے دیگر معزول ججوں کے دوبارہ حلف لینے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے دیگر تین ججوں جسٹس شاہ جہان خان، دوست محمد خان اور اعجاز افضل کو بھی دوبارہ حلف لینے پر قائل کیا جا رہا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس رضامحمد خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اس وقت پی سی او کے تحت حلف لینے والے جسٹس جہان زیب رحیم قائمقام چیف جسٹس کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ معزول چیف جسٹس اور دیگر ججز اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران اپنے عہدوں کا دوبارہ حلف اٹھالیں گے۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے چیئرمین لطیف آفریدی نے معزول چیف جسٹس اور دیگر ججوں کے دوبارہ حلف لینے کے فیصلےکا خیرمقدم کیا تاہم انہوں نے اس طریقے سے ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکومت کو شدید تنقید کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وکلاء کا موقف واضح ہے کہ تین نومبر کا اقدام غیر آئینی تھا اور جن ججوں کو معطل کیا گیا تھا انہیں دوبارہ حلف لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں وزیراعظم حکمنامے کے ذریعے بحال کر سکتے ہیں۔ لطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ معزول ججوں نے قربانیاں دی ہیں اور وکلاء ان کی عدالتوں کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ |