سندھ: تین معزول جج پھر تعینات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے تین مزید معزول ججوں نے دوبارہ تقرری کے بعد حلف لے لیا۔سندھ ہائی کورٹ کے تین نومبر دو ہزار سات کو پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔ وزارت قانون کی جانب سے منگل کی صبح جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس اطہر سعید اور جسٹس گلزار احمد کی دوبارہ تقرری کا نوٹیفکشین جاری کیا گیا ہے، جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس انور ظہیر جمالی نے ان ججوں سے پاکستان کے آئین کے تحت حلف لیا۔ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ معزول ججوں کا دوبارہ تقرر کیا گیا تھا مزید تین ججوں کے تقرر کے بعد اب صرف چیف جسٹس صبیح الدین احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس ارشد سراج میمن رہ گئے ہیں جن میں سے جسٹس ارشد سراج میمن جو ایڈیشنل جج تھے کی مدت ملازمت ختم ہو چکی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل یوسف لغاری نے بتایا کہ ان معزول ججوں کو دو نومبر والی سینارٹی دی جائے گی۔ اس سے قبل پیر کے روز سندھ ہائی کورٹ کے چھ ایڈیشنل ججوں کی ملازمت کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کردی گئی ۔ جسٹس محمود عالم رضوی، جسٹس عبدالرحمان فاروق پیرزادہ، جسٹس ظفر شیروانی، جسٹس سلمان انصاری اور جسٹس عبدالرشید کلوڑ کوگزشتہ سال ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا تھا، جن کی ملازمت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔ جسٹس ظفر شیروانی، جسٹس سلمان انصاری اور جسٹس عبدالرشید کلوڑ نے سابق صدر پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے سے انکار کیا تھا، گزشتہ دنوں انہوں نے حکومت کی پیشکش قبول کرتے ہوئے آئین کے تحت حلف لیا تھا۔ یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نے گزشتہ سال تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلی عدالتوں کے پچاس سے زیادہ ججوں کو معزول کردیا تھا، جن کی بحالی کے لیئے وکلا تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے معزول چیف جسسٹس صبیح الدین کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کی پیشکش کی گئی ہے۔اس بارے میں جب جسٹس صبیح الدین احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس کی تردید اور تصدیق سے انکار کیا اور کہا کہ کچھ دنوں میں جو ہوگا سب کے سامنے آجائے گا۔ سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس سرمد جلال عثمانی کی بیگم ثرمین اور پاکستان وومین لائیرز ایسوسی ایشن کی سرکردہ رہنمانے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ دو نومبر کو جو اقدام اٹھایاگیا وہ غیر قانونی تھا۔ جسٹس سرمد عثمانی کی بیگم نے کہا کہ ججوں کی دوبارہ تقرری دو نومبر والے اقدام کی قانونی حیثت تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ ایک مقامی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے بیگم ثرمین نے کہا کہ جسٹس سرمد جلال عثمانی کی دوبارہ تقرری کو تسلیم کرنے کے عمل سے ان کو شدید دکھ پہنچا ہے اور انہوں نے انہیں دوبارہ حلف لینے سے روکنے کی بھی کوشش کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||