سپریم کورٹ، مزید ججوں کی تعیناتی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے دو معزول ججوں سمیت چار ججوں کو سپریم کورٹ کے جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی اور اس ضمن میں وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارت قانون کے سکریٹری آغا رفیق نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ان ججوں میں سپریم کورٹ کے دو معزول ججز جسٹس سردار رضا خان اور جسٹس ناصر الملک جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے دو ججز جن میں جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس سرمد جلال عثمانی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جج صاحبان سنیچر کے روز صدر آصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پہلے حلف اُٹھائیں گے۔ نئی تعیناتی کے بعد جسٹس سردار رضا خان موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج بن جائیں گے جبکہ مقامی میڈیا پر یہ خبریں آ رہی ہیں کہ تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی لگنے کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُٹھانے والے جج جسٹس فقیر محمد کھوکھر کو اس پر اعتراض تھا کیونکہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بعد وہ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج تھے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس آئندہ سال مارچ میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ان ججوں کے حلف اُٹھانے کے بعد سپریم کورٹ کے صرف چھ معزول جج باقی رہ گئے ہیں۔ اُن میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس خلیل الرحمن رمدے، جسٹس چوہدری اعجاز، جسٹس فلک شیر اور جسٹس راجہ فیاض شامل ہیں۔ جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے دو جج باقی ہیں جنہوں نے تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد حلف نہیں اُٹھایا تھا ان میں مقبول باقر اور مشیر عالم شامل ہیں۔ | اسی بارے میں سپریم کورٹ:تین ججوں کا حلف05 September, 2008 | پاکستان پشاور: معزول چیف جسٹس کا حلف05 September, 2008 | پاکستان لاہور: چار ججوں نےحلف اٹھا لیا 30 August, 2008 | پاکستان سندھ ہائی کورٹ، آٹھ جج بحال27 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی کیلئےملک گیر دھرنا27 August, 2008 | پاکستان مسلم لیگ(ن) نے جلد بازی کی: پی پی25 August, 2008 | پاکستان جج بحال نہ ہوئے تودھرنا: اعتزاز23 August, 2008 | پاکستان یوم نجات، ججوں کی بحالی کا مطالبہ19 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||