BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 September, 2008, 11:38 GMT 16:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس عثمانی، تقرری غیر معمولی قدم

ایمرجنسی
جسٹس عثمانی ایمرجنسی کے نفاذ کے اگلے روز اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی کے لئے ہائی کورٹ پہنچ گئے تھے
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی کی آئین پاکستان کے تحت نئی حلف برداری کے بعد از سرنو تقرری کو قانونی حلقوں میں غیرمعمولی قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی ہائی کورٹ کے معزول چیف جسٹس جسٹس صبیح الدین احمد کے بعد سب سے سینیئر جج ہیں اور اسی لیے وہ جسٹس صبیح الدین کی غیرموجودگی میں قائم مقام چیف جسٹس بھی رہے۔

پچھلے سال ایمرجنسی نفاذ کے بعد جن ججوں کو حکومت نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کی پیشکش کی جسٹس سرمد جلال عثمانی ان میں شامل نہیں تھے۔

بلکہ وہ ان ججوں میں شامل تھے جنہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے اگلے روز اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی کے لیے ہائی کورٹ پہنچ کر فوجی حکمران کے اس اقدام کے خلاف ایک طرح سے علم بغاوت بلند کیا تھا۔

تاہم عدالت کو نرغے میں لیے ہوئے سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔

بعد میں جب سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت ساٹھ معزول ججوں کی بحالی کے لئے وکلاء کی ملک گیر تحریک شروع ہوئی تو جسٹس سرمد جلال عثمانی بھی خاص خاص مواقع پر اس میں حصہ لیتے نظر آئے۔

تئیس فروری کو وکلاء کی جانب سے کراچی سے حیدرآباد تک آزمائشی جوڈیشل بس چلائی گئی تو جسٹس عثمانی جسٹس صبیح الدین احمد سمیت ان بارہ ججوں میں شامل تھے جو اسکی قیادت کررہے تھے۔

بعد ازاں بائیس مئی کو کراچی بار کے وکلاء کے اس اجتماع میں بھی شریک تھے جس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ ’وکلاء اور جج صاحبان کسی صورت میں سمجھوتے کی پوزیشن میں نہیں رہے اور عوام نے مینڈیٹ دے کر انہیں اس جگہ پر کھڑا کر دیا ہے کہ اب صرف آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی بات کرنی پڑے گی اس کے علاوہ ہم نے کوئی دوسری بات سوچی تو یہ قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی۔‘

 تئیس فروری کو وکلاء کی جانب سے کراچی سے حیدرآباد تک آزمائشی جوڈیشل بس چلائی گئی تو جسٹس عثمانی جسٹس صبیح الدین احمد سمیت ان بارہ ججوں میں شامل تھے جو اسکی قیادت کررہے تھے۔

اس سے قبل بارہ مئی 2007ء کو جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر پرتشدد واقعات کی تحقیقات کے لئے سندھ ہائی کورٹ کا جو لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا اس کے سربراہ جسٹس عثمانی تھے۔

حکومت نے معزول ججوں کو آئین کے تحت دوبارہ حلف اٹھانے کی پیشکش کررکھی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ حلف لینے والے ججوں کو ان کی سابقہ سینیارٹی کے ساتھ بحال کیا جائے گا۔

سینیارٹی کی بنیاد پر جسٹس صبیح الدین احمد کے بعد جسٹس سرمد جلال عثمانی کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس سرمد جلال عثمانی سے جونیئر ہیں تاہم آئین کے تحت گزشتہ روز ان سے حلف لینے کے بعد اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ انہیں جلد ہی ترقی دیکر سپریم کورٹ کا جج مقرر کردیا جائے۔

اسی بارے میں
سپریم کورٹ:تین ججوں کا حلف
05 September, 2008 | پاکستان
پشاور: معزول چیف جسٹس کا حلف
05 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد