تین نومبر:’اسلام آباد میں یومِ سیاہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں وکلاء تنظیموں نے تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت تین نومبر کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا۔ اعلان کے مطابق شاہراہ دستور پر احتجاج ہوگا اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو امن کے عالمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جائے گا۔ سندھ ہائی کورٹ بار میں پیر کو مرکزی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں وکلاء تحریک کے آئندہ کی حکمت عملی کے بارے میں غور و فکر کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن نے کی جبکہ چاروں ہائی کورٹس لاہور، کوئٹہ، ملتان اور کراچی بار کے صدور، منیر ملک، حامد خان علی احمد کرد نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ تین نومبر کو ملک بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا اور اس روز شاہراہ دستور پر احتجاج کیا جائے گا اور تمام لوگوں کو وہاں پہنچنے کے لیے کہا جائے گا۔ اعتزاز احسن نے بتایا کہ تئیس اکتوبر کو لاہور میں جسٹس افتخار محمد چودھری وکلاء کی کنوینشن میں شریک ہوں گے جس میں وکلاء تحریک میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے وکلاء میں تعریفی سرٹیفکیٹ تقسیم کیے جائیں گے۔ پندرہ نومبر کو حیدرآباد میں بھی اسی نوعیت کی تقریب ہوگی جبکہ گوجرانوالہ اورگجرات کی تقریبات کی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وکلاء کی جانب سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو نوبل امن ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی نے انہیں فریڈم ایوارڈ کے لیے منتخب کیا ہے۔
اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ جب افتخار محمد چودھری ہارورڈ یونیورسٹی سے ایوارڈ وصول کر رہے ہوں گے تو وہاں یہ کہا جائے گا کہ یہ وہ چیف جسٹس ہیں جنہیں اپنے ملک میں چیف جسٹس نہیں رہنے دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عدلیہ کی آزادی پر ایک بین اقوامی کانفرنس منعقد کرنے کا پروگرام تھا، جس میں برطانیہ، امریکہ سمیت دنیا بھر کے وکلاء شریک ہو رہے تھے اس کانفرنس کا انعقاد اسلام آباد میریئٹ ہوٹل میں ہونا تھا جو اب ممکن نہیں ہوسکے گا۔ اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ اعلٰی عدلیہ کے بعض ججوں کے دوبارہ حلف لینے کی وجہ سے وکلاء تحریک انتشار کا شکار نہیں ہوئی تاہم حکومت پر دباؤ میں کمی ضرور ہوئی ہے ۔ ’اگر افتخار محمد چودھری چیف جسٹس کی کرسی پر ہوتے تو لوڈشیڈنگ کے اس بحران اور قیمتوں میں اضافے کی ضرور تفتیش کر رہے ہوتے، یہاں عدل نہیں ہے عدالتیں نہیں ہیں عدالتی نظام مفلوج ہوگیا ہے جو جج انصاف فراہم کرسکتے تھے انہیں معزول کردیا گیا ہے ، اس لئے عوام کے مسائل اور زیادہ بڑہ گئے ہیں۔‘ | اسی بارے میں وزیرقانون اور اے جی پی پر پابندی 18 September, 2008 | پاکستان ’حلف غیر آئینی اقدام ماننے کےبرابر‘30 August, 2008 | پاکستان پاکستان بھر میں وکلاء کا دھرنا ختم28 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی کیلئےملک گیر دھرنا27 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، تین روز میں ’سرپرائز‘21 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||