BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 October, 2008, 08:09 GMT 13:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سیاستدانوں نے وعدہ پورا نہیں کیا‘

اعتزاز
ججوں کی بحالی کے لیے حکومت پر سے دباؤ کم ہوا ہے: اعتزاز احسن
سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ عالی عدلیہ کے بعض ججوں کے دوبارہ حلف لینے کی وجہ سے وکلاء تحریک انتشار کا شکار نہیں ہوئی، تاہم حکومت پر دباؤ میں کمی ضرور ہوئی ہے ۔

کراچی ایئرپورٹ پر پیر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری، نواز شریف، مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی نے ججوں کی بحالی کے وعدہ کیئے تھے مگر ان میں سے کسی نے بھی اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن ججوں نے دوبارہ تقرریاں لی ہیں انہوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ تین نومبر کا اقدامات اور ان کی معزولی درست تھی، اب مہم جوں کے لیے دروازہ کھلا رہے گا اگلی بار ساٹھ نہیں بلکہ ایک سو جج اور پارلمینٹرین گرفتار ہوں گے پھر سیاستدان تحریک چلائیں گے تو اس میں کوئی بھی وکیل موجود نہیں ہوگا۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ اعصابوں کی جنگ ہے، جس میں ججوں کے دوبارہ حلف لینے کی وجہ سے حکومت کے اعصابوں پر دباؤ میں ضرور کمی ہوئی ہے، مگر وکلا کا یہ اصولی موقف ہے کہ تین نومبر کا اقدام غلط تھا۔

معزول ججوں نے دوبارہ حلف لیکر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ انہیں بجا طور پر برطرف کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کا طوفان حکومت کے کنٹرول میں نہیں آرہا ہے، پارلیمنٹ میں اس اہم ایشو پر ایک دن بھی بحث نہیں کیا گیا اگر جسٹس افتخار محمد چودھری موجود ہوتے اس کا ضرور نوٹس لیا جاتا۔

دوسری جانب پاکستان میں سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور دیگر ججوں کی بحالی کے لیے وکلا تحریک کے آئندہ کا لائحہ عمل کل کراچی میں طے کیا جائے گا۔ ماہ رمضان کی وجہ سے وکلاء نے سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار میں آج پیر کو مرکزی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے، جس کی صدارت سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کر رہے ہیں ، جبکہ چاروں ہائی کورٹس، سپریم کورٹ بار سمیت لاہور، کوئٹہ، ملتان اور کراچی بار کے صدور بھی اس میں شرکت کریں گے۔

کراچی بار کے صدر محمود الحسن نے بتایا کہ اس اجلاس میں وکلاء تحریک کے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ وکلاء کے پاس یہ تجویز ہے کہ چاروں صوبوں میں وکلاء کے کنوینشن منقعد کیے جائیں جس میں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری شریک ہوں اور ان کنوینشن کی ابتدا اندرون سندھ کی کسی بار سے کیا جائے۔

محمود الحسن کا کہنا تھا کہ وکلاء کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کوئی آخری مارچ نہیں تھا دیگر مارچ کے آپنشن بھی زیر غور ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر رشیدی رضوی کا کہنا ہے کہ حکومتی مشیروں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وکلاء تحریک ختم ہوگئی ہے، در حقیقت رمضان کی وجہ سے اس میں وقفہ آگیا تھا، اب یہ تحریک ایک مرتبہ پھر اپنے عروج پر ہوگی۔

اسی بارے میں
اعتزاز احسن کا موبائل پیغام
29 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد