عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کی بار کی رکنیت کو بھی منسوخ کردی گئی |
لاہور میں ضلعی بار ایسوسی ایشن نے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل پاکستان سردار لطیف احمد خان کھوسہ کے بار میں آنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ یہ فیصلہ لاہور بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں اس قرار داد کو منظور کرتے ہوئے کیا گیا جو بار کے سیکرٹری لطیف سرا نے پیش کی۔ اجلاس میں اسی قرار داد کے ذریعے اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کی بار کی رکنیت کو بھی منسوخ کردی گئی۔ ادھر وکلا کے ہفتہ وار احتجاج کے موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزار احسن نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جومعزول جج کے دوبارہ حلف اٹھا رہے ہیں درحقیقت تین نومبر کے اقدام کی توثیق کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وکلا تحریک ناکام نہیں ہوئی بلکہ اس کو کئی کامیابیاں ملیں ہیں۔ پاکستان بار کونسل کے رکن حامد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ معزول ججوں کے دوبارہ حلف اٹھانے سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ماہ رمضان کے بعد وکلا تحریک میں شدت آئے گی۔ اجلاس سے لاہور ہائی کورٹ بار کے سابق صدر حافظ عبدالرحمان انصاری نے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سردار لطیف کھوسہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے یہ بیان دیکر صدر پاکستان کی توہین کی ہے کہ اگر صدر آصف زرداری چاہیں بھی تو جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے عہدے پر بحال نہیں کرسکتے۔ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی کے دوبارہ حلف اٹھانے پر احتجاج کرنے پر ان کی اہلیہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے اجلاس کے بعد وکیلوں نے احتجاجی ریلی نکالی جس کی قیادت اعتزاز احسن اور حامد خان نے کی۔ ریلی میں مسلم لیگ نون کے علاوہ اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔ وکیلوں کی ریلی پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچ کر ختم ہوگئی۔ |