BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 October, 2008, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تین نومبر،ججوں کی تقرری غیر آئینی

 اعتزاز احسن
وکلاء تحریک کے حوالے سے کوئی بھی مایوس نہیں ہے: اعتزاز احسن
پاکستان کی وکلاء تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ جن افراد کو تین نومبر اور اس کے آس پاس جج مقرر کیا گیا ہے اب انہیں مستقل نہ کیا جائے، کیونکہ وہ ان کی ابتدائی تقرری کو غیر آئینی اور غیر قانونی تصور کرتے ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ بار کونسل میں اتوار کی دوپہر کو سپریم کورٹ بار کے صدر اعتزاز احسن کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں منیر ملک اور حامد علی خان سمیت چاروں ہائی کورٹس کے صدور نے شرکت کی۔

اجلاس میں پاکستان بار کونسل کی جانب سے کچھ وکلاء کے لائسنس رد کرنے اور شوکاز نوٹس دینے کے فیصلے کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ وہ سپریم کورٹ بار کے انتخابات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھی پہلے ہی یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ بار کے الیکشن میں رٹرننگ اور پرزائیڈنگ افسر نہیں بنیں گے کیونکہ وہ علی احمد کرد کے حمایتی ہیں۔یہ ذمہ داری غیر جانبدار وکلاء کو دی جائے۔

اعتزاز احسن نے بتایا کہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کی معزولی کا ایک سال مکمل ہونے پر تین نومبر کو ملک بھر میں وکلاء یوم سیاہ منائیں گے۔ اس روز معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری صبح دس بجے راولپنڈی بار میں وکلاء کنوینشن سے خطاب کریں گے بعد میں ، وکلا، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ شاہراہ دستور پر دھرنا دیں گے۔

 وکلاء تحریک کے حوالے سے کوئی بھی مایوس نہیں ہے ۔ اگر کوئی مایوس تھا بھی تو حیدرآباد میں کامیاب پروگرام کے بعد ان کے چہرے کھل کھلا اٹھیں ہیں
اعتزاز احسن

ان کا کہنا تھا کہ تین نومبر سیاہ دن ہے اور وہ توقع کرتے ہیں پیپلز پارٹی بھی اس دن احتجاج میں وکلاء کے ساتھ شریک ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ آٹھ نومبر کو جسٹس افتخار محمد چودھری سیالکوٹ میں وکلاء کنویشن سے خطاب کریں گے جس کے بعد دو ہفتوں کے لیے بیرون ملک دورے پر روانہ ہوجائیں گے، اس دوران سترہ نومبر کو انہیں نیویارک بار کی جانب سے لائف میمبرشپ دی جائے گی اور انیس نومبر کو وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں ایوارڈ وصول کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دسمبر میں جسٹس افتخار محمد چودھری دوبارہ کراچی آئیں گے اور وکلاء کے سالانہ ڈنر میں شریک ہوں گے جبکہ جنوری میں وہ میرپور آزاد کشمیر بار سے خطاب کریں گے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وکلاء تحریک کے حوالے سے کوئی بھی مایوس نہیں ہے ۔ اگر کوئی مایوس تھا بھی تو حیدرآباد میں کامیاب پروگرام کے بعد ان کے چہرے کھل کھلا اٹھیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں آج بھی وکلاء کے ساتھ ہیں، جب یہ تحریک شروع ہوئی تھی تو اس میں کوئی بھی سیاسی جماعت شامل نہیں تھی وہ بعد میں آئی، اس میں ہمارے ساتھ کوئی آہستہ چلتا ہے تو کوئی تیز، اس سےہم ہمت نہیں ہارتے۔

لانگ مارچ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ یہ فوری یا اگلے دو تین ماہ میں نہیں ہے اچھا موسم اور اچھا وقت ہوگا تو پھر یہ بھی ہوجائے گا۔

اسی بارے میں
مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز
16 August, 2008 | پاکستان
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد