’وکلاء ناکام ہوئے تو ملک کو خطرہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ اگر معزول چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک کمزور ہونے دی گئی تو پاکستان کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا اور پاکستان کے دشمن کامیاب ہونگے جو کہہ رہے ہیں کہ سنہ دوہزار پندرہ تک پاکستان کے ٹکڑے ہوجائیں گے۔ یہ بات انہوں نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ’اس تحریک کا کامیاب ہونا پاکستان کی سلامتی کے لیے ضروری ہے اگر ایسا نہ ہوا تو ہم سب ہار جائیں گے صرف ایک چھوٹا سامفاد پرست طبقہ کامیاب ہوگا باقی ساری قوم ہار جائےگی۔‘ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر عدلیہ بحالی تحریک کمزور پڑی تو پاکستان کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔ان کے بقول اس صورت میں پاکستان کے دشمن کامیاب ہونگے جو کہہ رہے ہیں کہ کہ سنہ دوہزار پندرہ میں پاکستان کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا، اس کے ٹکڑے ہوجائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ انہیں دوبارہ حلف اٹھانے والے ججوں پر افسوس ہے لیکن جب تک اکیلےافتخار محمد چودھری اپنے موقف پر ڈٹے ہیں یہ تحریک کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی طبقہ آزاد عدلیہ سے خوفزدہ ہے لیکن وہ اور ان کی پارٹی آخری دم تک چیف جسٹس کے ساتھ کھڑی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ یہ صرف وکیلوں کی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے کمزور طبقے کسانوں مزدروں کی اور ان چھوٹے صوبوں کی جنگ ہے جو سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ جب تک ملک میں آزاد عدلیہ الیکشن کمشن کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ایک ہی طبقہ بالادست رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار سے زیادہ آمدن ان ساٹھ لاکھ پاکستانیوں کی ہے جو بیرون ملک موجود ہیں لیکن وہ اس خوف سے سرمایہ پاکستان نہیں لاتے کہ یہاں قانون کی بالادستی نہیں ہے اور وہ خود کو اور اپنے سرمایے کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ اب بھی بیرون ملک مزدور طبقے کے پاکستانی ملک میں چھ ارب روپے بھیجتے ہیں جو پاکستان کا ایک خاص طبقہ ’چوری‘ کرکے دوبارہ باہر بھجوادیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کم از کم یہ سچ تو بولنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرایسا ہوتا تو پھر وہ جنگ لڑنے کی امریکہ سے ہر ماہ تنخواہ کیوں لیتے؟ عمران خان نے کہا کہ امریکہ کبھی بھی اتنی رقم نہیں دے سکتا جتنا سرمایہ بم دھماکوں کی وجہ سے پاکستان سے باہر منتقل کیا جارہا ہے۔ عمران کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کی جنگ کبھی نہیں جیتی جاسکتی۔ان کے بقول اپنے ہی لوگوں کو اپنا دشمن بنایا جارہا ہے جس سے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’ہم گندا پانی پیدا کرہے ہیں جس مچھر پیدا ہورہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اس لڑائی میں ہمارے شہری اور ہمارے فوجی مررہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمان کو دی جانے والی بریفنگ کو مسترد کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’جب برطانوی سفیر اور برطانوی کمانڈر کہہ رہے ہیں کہ وہ افغانستان میں ہار رہے ہیں تو ہم کیوں بڑھ بڑھ کر کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ ہم لڑیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ قبائلی علاقوں اور اس کےعوام کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ اور انہیں یقین ہے کہ یہ جنگ کبھی جیتی نہیں جاسکتی اس کا کوئی اختتام نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ جنگ ایک دو برس چلانا بھی مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ قبائیلی علاقوں میں ابھی سے مذاکرات شروع کرنا ہونگے تو ہم آہستہ آہستہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیں گے۔ | اسی بارے میں مزید چار ججوں نےحلف اٹھا لیا20 September, 2008 | پاکستان چھ ججوں کی ملازمت میں توسیع15 September, 2008 | پاکستان وکلاء کےدھرنے پر لاٹھی چارج 04 September, 2008 | پاکستان تین نومبر:’اسلام آباد میں یومِ سیاہ‘06 October, 2008 | پاکستان ’سیاستدانوں نے وعدہ پورا نہیں کیا‘06 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||