BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 July, 2008, 17:32 GMT 22:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عوام کاخواب چکنا چور کردیا گیا‘

معزول جج جسٹس خواجہ محمد شریف
اٹھارہ فروری کو عوام نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ووٹ دیا
لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین معزول جج جسٹس خواجہ محمد شریف کا کہنا ہے کہ اٹھارہ فروری کو عوام نےجو خواب دیکھا تھا حکمرانوں نے اسے چکنا چور کردیاہے۔

جسٹس خواجہ شریف نے یہ بات وکلا کے ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہ فروری کو عوام نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ووٹ۔

خواجہ شریف نے کہا کہ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تھا وہ اب بھی حلف نہیں اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وکلا ججوں کی بحالی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور یہ کیسے مکمن ہے وہ جج جن کی بحالی کے لیے تحریک چل رہی ہے وہ اب حلف اٹھا کر تحریک کی کمر میں خجنر گھونپ دیں گے۔

انہوں نےکہا کہ ججوں کی بحالی کے معاملے کو روٹی، کپڑے اور مکان سے جوڑنا درست نہیں ہے بلکہ مہنگائی اور لاقانونیت نااہلیت کی وجہ سے کنٹرول نہیں ہو رہی اور بہانے بنائے جا رہے ہیں۔ان کے بقول لوگوں کو روٹی کپڑا اور مکان کیا دینا تھا ان سے یہ بھی چھین لیا گیا اور یہ درست نہیں ہے کہ ججوں کے مسئلہ کی وجہ سے مہنگائی کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ ججوں کی بحالی کے لیے صرف ایک حکم کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم کے سامنے اعلان مری پر دستخط کیے گئے اور بعد میں کہا گیا کہ یہ کوئی حدیث نہیں ہے۔ ان کے بقول سیاست کا مطلب فریب دینا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آزاد عدلیہ کی بنیاد نو مارچ دو ہزار سات کو رکھی گئی ہے اور وکلا کی تحریک اب استحکام پاکستان کی تحریک بن چکی ہے۔

خواجہ شریف کا کہنا تھا کہ جن ججوں نے تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف اٹھایا انہوں نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا اور جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا انہوں نے بھی اپنے ضمیر کے تحت فیصلہ کیا۔ ان کے بقول ’جج اور چیف جسٹس وہ ہوتا ہے جس کو وکلا اور عوام جج تسلیم کریں‘۔

جسٹس خواجہ شریف کے خطاب کے بعد وکلا نے جلوس نکالا جس میں مسلم لیگ نون کے صوبائی وزیر میاں شجاع الرحمن اور رکن قومی اسمبلی میاں مرغوب کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے کارکن اور سوسائٹی کے ارکان بھی شامل ہوئے۔

جلوس میں شامل وکلا نے نعرے لگائے ’عدلیہ تیرے نام پر جان بھی قربان ہے اور چیف تیرے جان نثار بے شمار بے شمار‘۔

بعد ازں جلوس میں شامل وکلا اور سیاسی کارکن پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچ کر پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

وکلاء کا احتجاج وکلاء کا احتجاج
ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کا احتجاج جاری
ملتان احتجاجملتان احتجاج
لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے
وکلاء کی ہڑتالہفتہ اظہار یکجہتی
کراچی میں وکلاء کا مکمل بائیکاٹ
بلیک فلیگ ڈےبلیک فلیگ ڈے
کوئٹہ میں احتجاجی ریلی، عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ
وکلا کا احتجاجوکلا کا احتجاج
’لوگوں کے مسائل کے ذمہ دار وکیل نہیں‘
عدلیہ کی آزادی کے لیے احتجاج’یوم افتخار‘
عدلیہ کی آزادی کے لیے احتجاج
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد