BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 November, 2008, 01:15 GMT 06:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرا فیصلہ درست تھا، افتخار چودھری

چودھری افتخار امریکہ روانہ ہو رہے ہیں
پاکستان کی سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری نے کہا ہے کہ نو مارچ دو ہزار سات کو ان کا پاکستان میں قانون کی بالادستی کیلیے فیصلہ درست تھا اور وہ ملک میں عدلیہ کی آزادی کیلیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

پاکستان کے معزول چیف جسٹس اتوار کی صبح نیویارک میں پاکستانی امریکی وکلاء سے ٹیلی فون پر خطاب کررہے تھے۔

معزول چیف جسٹس کے ٹیلی فونک خطاب سننے کیلیے پاکستان مسلم لیگ اور عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی لیڈروں کے علاوہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جس کا انتظام پاکستانی ایڈووکیٹس فار ہیومن رائٹس تنظیم نے کیا تھا۔

اپنے خطاب کے دوان معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے سامعین کو بتایا کہ وہ پندرہ نومبر سے امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔

اپنے آٹھ منٹ کے خطاب کے دوران معزول چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں قانون کی بلادستی اور عدلیہ کی آزادی کیلیے انہوں نے اب تک بڑی قربانی نہیں دی لیکن وہ کسی بھی بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں وکلاء کی تحریک کامیاب ہوگئی تو اس سے ملک میں قانون کی بالادستی قائم ہوجائےگي۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو سترہ نومبر کو نیویارک میں نیویارک بار ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک تقریب میں ان کی پاکستان میں عدلیہ کی آزادی کیلیے ادا کیے جانیوالے کردار کے اعتراف کے طور پر ایوارڈ دیا جائے گا۔

جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی میں انیس نومبر کو پاکستان کے معزول چیف جسٹس کو انصاف اور انسانی حقوق کی بالادستی کیلیے خدمات ادا کرنے پر سب سے بڑا عالمی اعزاز فریڈم ایوارڈ دیا جائے گا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی طرف سے فریڈم ایوارڈ اس سے قبل وصول کرنے والوں میں جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کرنیوالے رہنما اور جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا بھی شامل ہیں۔

چیف جسٹس کے خطاب کی تقریب میں پاکستان مسلم لیگ نون عوامی نیشنل پارٹی، انسانی حقوق کی تنظیم پاکستانی امریکن فار ہیومن رائیٹس یا انا، نیویارک چیپٹر اور پاکسان یو ایس فریڈم فورم سمیت سول سوسائٹی گروپوں سے وابستہ کئي سرگرم کارکن شامل تھے۔
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے خطاب کے دوران سامعین کو بتایا کہ وہ اپنے امریکہ کے دورے کے دوران پاکستانی امریکی وکلاء سے ملیں گے جنہوں نے پاکستان میں قانون اور انسانی حقوق کی بجالی کیلیے جدوجہد میں اپنا کردرا ادا کیا ہے۔

اس سے قبل چیف جسٹس کے وکیل اور پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوایشن کے سابق صد اعتزاز احسن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’پاکستان میں آزاد عدلیہ کے ملبے پر مظبوط پارلمیان کھڑی نہیں کی جاسکتی-‘

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی نیویارک میں پاکستانی امریکی وکلاء کی تقریب کا جس میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد شریک تھی اہتمام ایـڈووکیٹس فار ہیومن رائٹس نامی نتظیم نے کیا تھا۔

اسی بارے میں
ملتان بار، کھوسہ کا نام حذف
27 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد