جسٹس افتخار کا شاندار استقبال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان جن مشکل حالات سے گزر رہا ہے اس میں آزاد عدلیہ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ معزول چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے جوش و جذبہ دیکھ کر انہیں بہت حوصلہ ملا ہے اور انہیں یقین ہوگیا کہ وکلاء تحریک کامیاب ہو کر رہے گی۔ حیدرآباد میں جس طرح جسٹس افتخار محمد چودھری کا استقبال ہوا ہے اس سے لگتا ہے کہ آزاد عدلیہ کے لیے وکلاء کی تحریک دوبارہ زندہ ہو چکی ہے۔ معزول چیف جسٹس نے جب رات کے ایک بجے تقریر شروع کی تو لوگوں کی بڑی تعداد ان کی منتظر تھی۔ معزول چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو جن نامساعد حالات کا سامنا ہے اس میں مضبوط عدلیہ کی موجودگی انتہائی اہم ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ملک کی بقا اسی میں ہیں کہ ریاست کےتمام ستون اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔ معزول چیف جسٹس نے دوسری جنگ عظیم میں برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کا وہ مشہور قول بھی دہرایا کہ اگر عدلیہ انصاف کر رہی ہو تو اس ملک کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
جسٹس افتخار محمد چودھری نے براہ راست حکومت کے کسی فیصلے پر تنقید کرنے سے اجتناب کیا اور صرف اتنا کہا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اچھا نہیں ہو رہا ہے۔ معزول چیف جسٹس نے کہا کہ مارچ دوہزار سات میں جب پہلی بار ان کے خلاف کارروائی کی گئی تو اس وقت بھی حیدرآباد بار کی دعوت سندھ آئے جس کے بعد وکلاء کی جس تحریک نے جنم لیا وہ سب لوگوں کے سامنے ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری جب وکلاء کنویشن سے خطاب کے لیے کراچی سے حیدرآباد جامشورو ٹول پلازہ پر پہنچے تو ان کا استقبال کرنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور چیف جسٹس کا جلوس چھ گھنٹے کی مسافت کے بعد سول عدالت میں وکلاء کنویشن میں پہنچ پایا۔ پچھلی بار جب معزول چیف جسٹس حیدرآباد میں وکلاء میں آئے تو سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کی ایک بڑی تعداد بھی ان کا استقبال کرنے کے لیے آئےلیکن اس بار سندھ ہائی کورٹ کا کوئی جج ان کا استقبال کرنے نہیں آیا۔ البتہ میر پور خاص کے ایڈیشنل سیشن جج مٹھار علی جتوئی وکلاء کے کنویشن میں موجود تھے اور ان کی بہت پذایرائی کی گئی۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ آجکل ملک میں محترمہ بینظیر بھٹو کی وصیت کے بڑے چرچے ہیں لیکن محترمہ کی ایک قول کو بھول جاتے ہیں کہ ’جسٹس افتخار میرے چیف جسٹس ہیں اور میں خود ان کے گھر پر جھنڈا لہراؤں گی۔‘ اعتزاز احسن نے کہا کہ امریکہ کی مشہور یونیورسٹی ہاورڈ نے جسٹس افتخار محمد چودھری کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہاروڈ یونیورسٹی کی تین سو ساٹھ سالہ تاریخ میں صرف تین شخصیات کو ایوارڈ دیئے گئے ہیں جس میں عظیم حریت رہنما نیلسن منڈیلا بھی شامل ہیں۔ وکلاء کے ایک بڑی تعداد نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور ایک موقع پر یہ نعرہ بھی پہلی بار سننے میں آیا’ اس ملک کی بیماری، زرداری، زرداری، بی بی کس نے ماری زرداری زرداری۔‘ اس موقع پر سٹیج سے لوگوں کو ایسی نعرہ بازی کرنے سے باز رہنے کے لیے کہا گیا۔ وکلاء کنویشن میں موجود پیپلز پارٹی کے کچھ کارکنوں نےنعرے بازی پر اعتراض کیا اور کہا کہ ملک کے صدر کے خلاف اس طرح کی الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔اس موقع پر رسول بخش پلیجو نے پیلپز پارٹی کے حمایتوں کو مشورہ دیا کہ مخالفین کا نکتہ نظر سننے کا حوصلہ پیدا کریں۔ وکلاء تحریک کے ایک اور اہم رکن رشید رضوی نے کہا کہ وکلاء تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک اور اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کو اپنی بار کے فکنشن میں نہ آنے دیں اور ان کا بائیکاٹ کیا جائے۔ | اسی بارے میں ڈوگر کو نہ بلائیں: اعتزاز کی اپیل09 July, 2008 | پاکستان ’عوام کاخواب چکنا چور کردیا گیا‘24 July, 2008 | پاکستان مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز 16 August, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی کیلئےملک گیر دھرنا27 August, 2008 | پاکستان ’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘26 September, 2008 | پاکستان ’سیاستدانوں نے وعدہ پورا نہیں کیا‘06 October, 2008 | پاکستان وکلاء کی سرگرمیاں اب سندھ سے14 October, 2008 | پاکستان ’وکلاء ناکام ہوئے تو ملک کو خطرہ‘15 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||