یوم سیاہ، بائیکاٹ اور احتجاجی ریلیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وکلاء تحریک تین نومبر یعنی سوموار کو ملک بھر میں یوم سیاہ منا رہی ہے اور اس سلسلے میں معزول چیف جسٹس پنڈی بار سے خطاب کرنے کے بعد جلوس کی شکل میں اسلام آباد آئیں گے جہاں وکلاء کے پروگرام کے مطابق شاہراہ دستور پر دھرنا دیں گے۔ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کے لیے کچہری پہنچے تو ان کا وکلاء نے ان کے حق میں نعرے لگا کر خیر مقدم کیا۔ اس موقعہ پر وکلاء نے ’گو زرداری گو‘ کے نعرے لگائے۔ اس سے قبل جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری راولپنڈی بار سے خطاب کرنے کے لیے جب اپنی رہائشگاہ سے روانہ ہوئے تو وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان کی بڑی تعداد ان کی رہائشگاہ کے باہر موجود تھی۔ اس موقعہ پر سپریم کورٹ بار کونسل کے نئے صدر علی احمد کرد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک اب تیسرے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور آج کے اجتماع سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس تحریک میں کتنی تیزی آئی ہے۔ اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا کہ یوم سیاہ کے موقع پر اسلام آباد کی انتظامیہ اور وکلاء نمائندوں کے درمیان خاصی کشیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ رات گئے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود فریقین کے درمیان ریلی اور دھرنے کے مقام پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔ وکیل رہنماؤں نے سوموار کو سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے شاہراہ دستور پر دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے خصوصی حفاظتی ریڈ زون میں واقع اس اہم شاہراہ پر کسی قسم کے شو کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ راولپنڈی بار کے صدر سردار عصمت اللہ کا کہنا ہے کہ رات گئے اسلام آباد کی انتظامیہ کے ساتھ انکے رابطوں کے بعد یہ طے ہو گیا تھا کہ راولپنڈی بار کی تقریب سے معزول چیف جسٹس کے خطاب کے بعد وکلاء اور ایک ریلی کی صورت میں سپریم کورٹ کی عمارت تک جانے کی اجازت دی جائے گی۔ دوسری جانب سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے گزشتہ رات بی بی سی کو بتایا تھا کہ انتظامیہ نے وکیل رہنماؤں کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے بجائے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اس مقام پر دھرنا دے لیں جہاں اس سال جون میں وکلاء اور سول سوسائٹی کے لانگ مارچ کے اختتام پر دھرنا دیا گیا تھا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ اور وکلا کے درمیان اس اختلاف رائے کے بعد اسلام آباد کی فضا میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ریڈ زون کے گرد حفاظتی انتظامات مزید سخت کرکے پولیس اور رینجرز کے اضافی دستے اس جانب جانے والے راستوں پر تعینات کر دئیے گئے ہیں۔ کنٹینرز کے ذریعے خصوصی حفاظتی ریڈ زون میں واقع اس اہم شاہراہ کو بند کرنے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لئے بڑی تعداد میں کنٹینرز ریڈ زون کے باہر ایک میدان میں جمع کر لئے گئے ہیں اور انہیں اٹھانے کے لئے کرینز اور بڑے ٹرک بھی موجود ہیں۔ لاہور سے نامہ نگار عباد الحق نے بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جلوس نے لاہور بار ہائی کورٹ سے نکل کر پی ایم جی چوک پر دھرنا دیا ہے اور جلوس اس کے بعد گورنر ہاؤس کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس جلوس میں پیپلز لائر فورم کے وکلاء کی کثیر تعداد بھی شریک ہے۔ اس جلوس میں وکلاء کے علاوہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نواز کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی حصہ لے رہی ہے۔ کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ کراچی سٹی کورٹ اور ملیر کورٹ کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ ملیر بار سے سابق جسٹس رانا بھگوان داس خطاب کریں گے۔ سٹی کورٹ سے وکلاء ایم اے جناح روڈ پر دھرنا بھی دیں گے۔ اس کے علاوہ اندرون سندھ تمام عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ پشاور سے ہمارے نامہ نگار دلاور خان وزیر نے بتایا کہ پشاور میں وکلاء، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنوں نے سیشن کورٹ کے سامنے دھرنا دیا۔ اس موقع پر وکلاء اور سیاسی تنظیوں کے کارکنوں نے بینر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جس پر پرویز مشرف کے خلاف نعرے درج تھے۔ وکلاء نے یوم سیاہ کے موقع پر مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا تھا۔ بعد میں وکلاء راولپنڈی کے لیے ہائی کورٹ کی حدود سے ایک جلوس کی شکل میں راونہ ہوگئے۔ | اسی بارے میں میرا فیصلہ درست تھا، افتخار چودھری03 November, 2008 | پاکستان ایمرجنسی - تین نومبر کو وکلاء کا یومِ سیاہ02 November, 2008 | پاکستان عبدالحمید ڈوگر کے استعفے کا مطالبہ30 October, 2008 | پاکستان اصل چیف جسٹس افتخار ہی: کرد 28 October, 2008 | پاکستان ملتان بار، کھوسہ کا نام حذف27 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||