لاہور، ماتحت عدلیہ کی تالہ بندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن نے شہر کی ماتحت عدالتوں کی تالا بندی کردی ہے جس سے سیشن اور سول کورٹس میں عدالتی کام رک گیا۔ لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے پہلے چار نومبر کو عدالتوں کی تالا بندی کا اعلان کر دیا تھا تاہم منگل کوہونے والے بار کے اجلاس میں عدالتوں کی تالا بندی کرنے کا حتمی فیصلہ کیاگیا۔ لاہور میں سیشن و سول کورٹس کی تعداد پچاس سے زائد ہے اور ان عدالتوں کی تالابندی سے مقدمات کی بڑی تعداد پر ہونے والی کارروائی متاثر ہوئی ہے۔ اجلاس کے بعد وکلاء ضلعی بار کے عہدیداروں کے ہمراہ جلوس کی شکل میں مختلف عدالتوں میں گئے اور تالے لگا دیے۔ وکیلوں نے سب سے پہلے سینیئر سول جج کی عدالتوں کو تالا لگایا جس کے بعد دیگر عدالتوں کو تالے لگائے گئے۔ وکلاء کے تالے لگانے کے دوران ہی کئی عدالتوں کے عملے نے کسی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے خود بھی عدالتوں کو تالے لگادیے۔ اس موقع پر وکیلوں نےمعزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے حق میں اور صدر پاکستان آصف زرداری کے خلاف نعرے لگائے۔ سول کورٹس کی تالابندی کے بعد وکلاء جلوس کی شکل میں سیشن کورٹس پہنچ گئے جہاں ڈسٹرکٹ سیشن جج لاہور کی عدالت سمیت دیگر عدالتوں کو تالے لگادیے گئے۔ ماتحت عدالتوں کی تالابندی کے بعد سیشن کورٹ کے احاطے میں موجود وکیلوں نے لاہور ہائی کورٹ کی عدالتوں کی تالابندی کے مطالبہ کے حق میں نعرے لگائے۔ عدالتوں کی تالا بندی کے بعد لاہور بار ایسوسی ایشن کے قائم مقام صدر عاصم چیمہ نے وکلا سے خطاب کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدالتوں کی تالا بندی نہ کی تو ضلعی بار کے اجلاس کے اس بارے فیصلہ کے بعد ہائی کورٹ کی عدالتوں کی بھی تالا بندی کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے لاہور کی عدالتوں کی تالابندی علامتی نہیں ہے بلکہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی تک جاری رہے گی اور لاہور بار کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وکلاء اپنے رہنماؤں کے خطاب کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ | اسی بارے میں وکلاء جدوجہد جاری رہے گی: کرد03 November, 2008 | پاکستان عبدالحمید ڈوگر کے استعفے کا مطالبہ30 October, 2008 | پاکستان پارلیمنٹ کے سامنے وکلا دھرنا جاری03 November, 2008 | پاکستان آئین بحال نہیں ہے: جسٹس افتخار20 October, 2008 | پاکستان جسٹس افتخار کا شاندار استقبال18 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||