BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئین بحال نہیں ہے: جسٹس افتخار

چیف جسٹس افتخار چودھری(فائل فوٹو)
جسٹس چودھری کا دو روز قبل حیدر آباد میں شاندار استقبال ہوا
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ملک کا آئین اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتا جب تک پارلیمان یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ تین نومبر دو ہزار سات کا اقدام صحیح تھا یا غلط۔

پیر کے روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے فوٹو سیشن کے موقع پر وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ ملک اور قوم کے بہتر مفاد میں فیصلہ کریں۔

تین نومبر کے بعد یہ پہلا ہے کہ معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہوئے ہیں۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے اندر اور باہر انتہائی سکیورٹی تھی اور ججوں کے کمروں کی طرف جانے والے راستے بند تھے۔

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں تین نومبر کو اس لیے نظر بند کیا گیا تھا کہ آٹھ نومبر کو نواز شریف کے دوبارہ ملک سے جدہ بھیجے جانے کے معاملے میں توہینِ عدالت کی کارروائی کی تاریخ تھی۔

’تین نومبر کو راز بتاؤں گا‘
تین نومبر کو راولپنڈی میں ہونے والے ایک اجتماع میں وکلاء کو کچھ راز بتائیں گے۔ ملک میں مارشل لاء کی کیا وجوہات تھیں اور تین نومبر کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی اہلیت والے مقدمے میں اُن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے فیصلہ کیوں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مارشل لاء لگانے میں بڑے پردہ نشینوں کے نام بھی آئیں گے
واضح رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی جس کے بعد افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے ساٹھ کے قریب ججوں کو برطرف کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی کے دوران اُس وقت کے سیکرٹری خارجہ نے بتایا تھا کہ انہیں نواز شریف کو ملک بدر کرنے کے لیے جہاز تیار رکھنے کے احکامات اُس وقت کی حکومت کی ایک اعلیٰ شخصیت نے دیے تھے جس کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ وہ تین نومبر کو راولپنڈی میں ہونے والے ایک اجتماع میں وکلاء کو کچھ راز بتائیں گے۔ ملک میں مارشل لاء کی کیا وجوہات تھیں اور تین نومبر کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی اہلیت والے مقدمے میں اُن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے فیصلہ کیوں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مارشل لاء لگانے میں بڑے پردہ نشینوں کے نام بھی آئیں گے۔

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء کی تحریک اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی اور یہ تحریک ضرور کامیاب ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آج سپریم کورٹ میں ہونے والی تقریب میں وہ میزبان ہیں جبکہ وکلاء یہاں پر مہمان ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کا ہی نتیجہ ہے کہ آج مشرف مخالف سیاسی جماعتیں عام انتخابات میں کامیاب ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کی وجہ سے ہی ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے معاہدے ہوئے تاہم موجودہ حکومت اس معاہدے پر پورا نہیں اُتر سکی۔

چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء تحریک کی وجہ سے ہی معزول ججوں کو تنخواہیں ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری امریکہ جائیں گےجہاں پر انہیں نیویارک بار ایسوسی ایشن لائف ٹائم ممبرشپ دے گی۔

معزول چیف جسٹس کا حیدرآباد میں استقبال
معزول چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر اسلام آباد پولیس نے شارع دستور کو جانے کے تمام راستے بند کیے ہوئے تھے اور معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ان کے وکلاء کے قافلے کے ہمراہ مارگلہ روڈ پر ہی روک دیا گیا تاہم تین گھنٹے تک وکلاء اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے بعد وکلاء کو سپریم کورٹ میں جانے کی اجازت دی گئی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کی عمارت کے اردگر د سیکورٹی کے سخت اقدامات کے علاوہ سپریم کورٹ کی عمارت میں بھی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور سپریم کورٹ کے ججوں کے چیمبروں کی طرف جانے والے راستوں پر بھی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات 28 اکتوبر کو ہو رہے ہیں اور مشہور وکیل رہنما علی احمد کرد چوہدری اعتزاز احسن گروپ کی طرف سے ان انتخابات میں صدارت کے امیدوار ہیں۔

سیکورٹی اقدامات کی وجہ سے متعدد ارکان پارلیمنٹ کو بھی شاہراہ دستور پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور پی پی پی کے رہنما مخدوم امین فہیم اسی راستے سے گزر کر پارلیمان کے اجلاس میں جانا چاہ رہے تھے جس پر معزول چیف جسٹس افتخار جا رہے تھے لیکن راستے بند ہونے کی وجہ سے انہیں بھی روک دیا گیا۔ مخدوم امین فہیم روکے جانے کے بعد پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے بغیر لوٹ گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد