آئین بحال نہیں ہے: جسٹس افتخار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ملک کا آئین اس وقت تک بحال نہیں ہو سکتا جب تک پارلیمان یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ تین نومبر دو ہزار سات کا اقدام صحیح تھا یا غلط۔ پیر کے روز سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے فوٹو سیشن کے موقع پر وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ ملک اور قوم کے بہتر مفاد میں فیصلہ کریں۔ تین نومبر کے بعد یہ پہلا ہے کہ معزول چیف جسٹس سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہوئے ہیں۔ اس موقع پر سپریم کورٹ کے اندر اور باہر انتہائی سکیورٹی تھی اور ججوں کے کمروں کی طرف جانے والے راستے بند تھے۔ معزول چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں تین نومبر کو اس لیے نظر بند کیا گیا تھا کہ آٹھ نومبر کو نواز شریف کے دوبارہ ملک سے جدہ بھیجے جانے کے معاملے میں توہینِ عدالت کی کارروائی کی تاریخ تھی۔
انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی کے دوران اُس وقت کے سیکرٹری خارجہ نے بتایا تھا کہ انہیں نواز شریف کو ملک بدر کرنے کے لیے جہاز تیار رکھنے کے احکامات اُس وقت کی حکومت کی ایک اعلیٰ شخصیت نے دیے تھے جس کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ وہ تین نومبر کو راولپنڈی میں ہونے والے ایک اجتماع میں وکلاء کو کچھ راز بتائیں گے۔ ملک میں مارشل لاء کی کیا وجوہات تھیں اور تین نومبر کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی اہلیت والے مقدمے میں اُن کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے فیصلہ کیوں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مارشل لاء لگانے میں بڑے پردہ نشینوں کے نام بھی آئیں گے۔ معزول چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء کی تحریک اپنے منطقی انجام کو پہنچے گی اور یہ تحریک ضرور کامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج سپریم کورٹ میں ہونے والی تقریب میں وہ میزبان ہیں جبکہ وکلاء یہاں پر مہمان ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کا ہی نتیجہ ہے کہ آج مشرف مخالف سیاسی جماعتیں عام انتخابات میں کامیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کی وجہ سے ہی ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے معاہدے ہوئے تاہم موجودہ حکومت اس معاہدے پر پورا نہیں اُتر سکی۔ چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء تحریک کی وجہ سے ہی معزول ججوں کو تنخواہیں ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افتخار محمد چوہدری امریکہ جائیں گےجہاں پر انہیں نیویارک بار ایسوسی ایشن لائف ٹائم ممبرشپ دے گی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات 28 اکتوبر کو ہو رہے ہیں اور مشہور وکیل رہنما علی احمد کرد چوہدری اعتزاز احسن گروپ کی طرف سے ان انتخابات میں صدارت کے امیدوار ہیں۔ سیکورٹی اقدامات کی وجہ سے متعدد ارکان پارلیمنٹ کو بھی شاہراہ دستور پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور پی پی پی کے رہنما مخدوم امین فہیم اسی راستے سے گزر کر پارلیمان کے اجلاس میں جانا چاہ رہے تھے جس پر معزول چیف جسٹس افتخار جا رہے تھے لیکن راستے بند ہونے کی وجہ سے انہیں بھی روک دیا گیا۔ مخدوم امین فہیم روکے جانے کے بعد پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے بغیر لوٹ گئے۔ | اسی بارے میں ’افتخار چوہدری سیاسی نہیں‘25 August, 2008 | پاکستان جسٹس افتخار منگل سے دورہ کراچی پر 26 July, 2008 | پاکستان منزل اب دور نہیں: جسٹس افتخار12 June, 2008 | پاکستان آزاد عدلیہ، جمہوریت مستحکم: افتخار چودھری31 May, 2008 | پاکستان افتخار چوہدری کی خاموش واپسی04 April, 2008 | پاکستان ’جسٹس افتخار سے نہیں مل سکتے‘06 December, 2007 | پاکستان آئین تار تار ہے، قربانیوں کا وقت ہے، لوگ اٹھ کھڑے ہوں: جسٹس افتخار 06 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||