ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری |
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے آبائی شہر کوئٹہ میں چند روز گزارنے کے بعد جمعہ کی دوپہر خاموشی سے واپس اسلام آباد لوٹ آئے ہیں۔ نہ تو کوئٹہ اور نہ ہی اسلام آباد کی ہوائی اڈے پر انہوں نے بڑی تعداد میں جمع وکلاء یا صحافیوں سے کوئی بات کی۔ تاہم وہاں موجود وکلاء نے ان کے حق میں نعرہ بازی کی۔ دریں اثناء معزول چیف جسٹس کو ائیرپورٹ پر سرکاری پروٹوکول بھی دیا گیا۔ انہیں پروٹوکول کا عملہ اور سیکورٹی گاڑیاں مہیا کی گئیں۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس کے ترجمان اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ انہیں پوری امید ہے جمہوری قوتیں صدر پرویز مشرف کی سازشوں کا حصہ کبھی نہیں بنیں گی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کے مطابق یہ خاموشی معزول چیف جسٹس نے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کے کہنے پر اختیار کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معزول چیف جسٹس حکومت کو دی جانے والی تیس روز کی مہلت میں ججوں کی بحالی کا انتظار کریں گے۔ پرجوش وکلاء ’افتخار تیرے جانثار بےشمار بےشمار` اور ’عدلیہ کی بحالی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘ جیسے نعرے بلند کرتے رہے۔ معزول چیف جسٹس ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کے خطاب کے پروگرام کو ملتوی کرتے ہوئے واپس اسلام آباد پہنچے ہیں۔ وہ ایک جلوس کی شکل میں ہوائی اڈے سے سیدھا ججز کالونی میں اپنی رہائش گاہ پہنچے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صدر پرویز مشرف کی جانب سے معزول کیے جانے والے ججوں کی بحالی کے لیے ایک آئینی پیکج پر کام کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئر پرسن آصف علی زرداری کہہ چکے ہیں کہ ججوں کی بحالی اصلاحاتی پیکج کا حصہ ہوگا۔ |