BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 March, 2008, 18:52 GMT 23:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گھر خالی کروانا مجرمانہ کارروائی‘

جسٹس خلیل الرحمان رمدے
سرکاری رہائش گاہ خالی کرانے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا:جسٹس رمدے
پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا کہنا ہے اسلام آباد میں ان کے گھر کے تالے توڑ کر سامان باہر پھینکا جانا ایک مجرمانہ کارروائی اور غیر اخلاقی فعل ہے۔

ججز کالونی میں واقع سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل الرحمان رمدے کی سرکاری رہائش گاہ کو سنیچر کی رات بغیر کسی پیشگی اطلاع کے خالی کرایا گیا اور جسٹس رمدے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام سات بجے کے قریب ان کے ملازم نے فون پر انہیں بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے حکم پر کچھ لوگ آئے ہیں اور انہوں نے تالے توڑ کر سامان باہر پھینکنا شروع کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ چھ برس سے ججز کالونی میں قانونی طور پر رہائش پذیر تھے اور شرافت اورانسانیت کا یہ تقاضہ تھا کہ ایسی کارروائی کرنے سے قبل ان کو آگاہ کیا جاتا۔ جسٹس خلیل رمدے کا کہنا ہے کہ جس طرح ان کی سرکاری اقامت گاہ کے تالے توڑ کر سامان نکالا گیا ہے’یہ مجرمانہ کارروائی ہے اور یہ اقدام ڈکیتی، چوری اور ناجائز قبضہ کرنے کے زمرے میں آتا ہے‘۔

جسٹس رمدے کے بقول وہ ابھی سپریم کورٹ کے جج ہیں اور ان سے سرکاری رہائش گاہ خالی کرانے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ’اگر جسٹس عبدالحمید ڈوگر یہ سمجھتے ہیں کہ میں ریٹائر ہوگیا ہوں تو اس صورت میں بھی میں چھ ماہ تک اس گھر میں رہ سکتا ہوں‘۔

ان کے بقول ججز کالونی میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ میں ایک اہم کیس کا ریکارڈ اور دیگر دستاویزات بھی موجود تھیں۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ’مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ ایسا کیوں کیا گیا ہے اور اگر پانچ ماہ تک رہائش گاہ کے لیے انتظار کیا جاسکتا ہے تو اس کو خالی کرانے کے لیے مزید کچھ دنوں کا انتظار کیا جا سکتاہے‘۔

ان کا کہنا ہے جس طرح ان سے رہائش گاہ خالی کرانے کی کارروائی کی گئی ہے اس پر انہیں بڑا دکھ ہے اور ان کے لیے اس بات کو برداشت کرنا مشکل ہو رہا ہے لیکن اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ جسٹس خلیل رمدے کہا کہ’اس کارروائی کے خلاف دادرسی کے لیے کہاں جاؤں‘۔ان کے بقول گزشتہ پانچ ماہ سے ان کا موبائل فون تک بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ’جس طرح گزشتہ پانچ ماہ سےسب کچھ برداشت کیا ہے اس طرح اس کو اقدام کو بھی صبر اور تحمل کے ساتھ برداشت کرنے کی کوشش کروں گا‘۔

اسی بارے میں
ہفتۂ اظہارِ یکجہتی
09 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد