سو دن کا ایجنڈہ اور صدر مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (نواز) کے لیئے آج حلف اٹھانے والی وفاقی کابینہ کافی اہمیت کی حامل رہی۔ قسمت کیسا پلٹا کھاتی ہے آج انہیں اندازہ ہوگیا ہوگا۔ اس کابینہ میں اکثریت مسلم لیگ کے ان وزراء کی ہے جنہیں صدر پرویز مشرف نے آٹھ برس قبل طیارے کے واقع کے علاوہ نااہلی، بدعنوانی اور نہ جانے کون کون سے الزامات لگا کر باہر کر دیا تھا۔ آج کئی برسوں کے مقدمات، قید و بند اور مخالفت کے باوجود یہ لوگ ان سے حلف لینے کے لیئے ان کے سامنے کھڑے تھے۔ معلوم نہیں اسے عوامی طاقت کہیں، جمہوریت کا زور، سیاسی چمت کار یا اٹھارہ فروری کے بعد بدلا بدلا پاکستان۔ لیکن اس ساری صورتحال کی وجہ سے ایوان صدر کے اس پرہجوم ہال میں ایک شخص کافی اکیلا محسوس ہوا۔ بعض مسلم لیگی وزراء نے صدر سے اپنی مخالفت کا اظہار سیاہ پٹیاں باندھ کر دیا۔ مسلم لیگ کا کہنا ہے کہ اس حکومت کو چلانا تھا لہذا اپنے اوپر جبر سہتے ہوئے انہوں نے صدر سے حلف لیا۔ ویسے ایسی بھی کوئی زبردستی نہیں تھی۔ اگر سرحد میں وہ صوبائی حکومت میں شامل نہ ہونے کا راگ الاپ رہا ہے تو یہ سُر مرکز میں بھی سنایا جاسکتا تھا۔ مسلم لیگ کی شروع سے اب تک کی پالیسی کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ نواز شریف نے ان کے سب سے بڑے سیاسی حلیف صدر کی موجودگی میں ان کے لیئے ایک ہی راستہ تھا اور وہ تھا ’آل آوٹ وار‘ کا۔ قید اور جلاوطنی نے انہیں ایک زیادہ ہوشیار سیاستدان بنا دیا ہے۔ انہوں نے عام انتخابات کے وقت لوگوں کی نبض بھانپ لی تھی اور صدر کی مخالف کا ووٹ جھولیاں بھر بھر کے لیا۔
ان کی صدر مخالف پالیسی اب بھی جاری ہے۔ ابتدا میں صدر سے حلف لینے کو وجہ بنا کر انہوں نے اپنا احتجاج بھی رجسٹر کروا دیا، حلف میں سیاہ پٹیاں باندھ کر دھیمہ سا احتجاج کر بھی ڈالا لیکن وزارتیں بھی حاصل کر لیں۔ نہ مرا سانپ اور نہ ہی لاٹھی ٹوٹی۔ مسلم لیگ نے وزارتیں بھی کافی مشکل لیکن کلیدی حاصل کی ہیں۔ پیپپلز پارٹی چاہے کچھ بھی کرتی پھرے خزانے کی کنجی مسلم لیگ کے پاس ہی ہے۔ تجارت، تعلیم، پیٹرولیم، دفاعی پیداوار اور ریلویز کی گدیاں بھی اسی کے ہاتھ آئی ہیں۔ یعنی اس کا نشانہ اقتصادی امور سے جڑی وزارتیں تھیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کو وہ وزارتیں ملیں ہیں جس میں اس کا اکثر وقت وضاحتیں اور بیانات ہی دینے میں گزرے گا۔ خارجہ، اطلاعات و نشریات اور امور کشمیر ایسی ہی اہم وزارتیں ہیں۔ لیکن چونکہ وزیر اعظم اس کا ہے تو شاید ’اور آل‘ کنٹرول تو اسی کے پاس ہو لیکن جب کوئی وزیر نہ کر دے تو بعض اوقات سب کو ماننا پڑتا ہے۔ خیر یہ تو اتحادی جماعتوں کا آپس کا معاملہ ہے۔ اگر سیاست فراست اور عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو چل جائیں گے ورنہ دوبارہ انتخابات کوئی زیادہ دور نہیں ہوں گے۔ لیکن اصل مسئلہ تو صدر کا ہے۔ کیا وہ سب اختیارات چھوڑ چھاڑ کر آرام سے زندگی بسر کرنے پر تیار ہو جائیں گے؟ یا کیا انہیں نئی حکومت اور پارلیمان ایسا کرنے دے گی؟ مسلم لیگ کا صدر کے خلاف شور شرابہ جیسا بھی ہو، نئی حکومت ایوان صدر کو جھنجھوڑنے کا بظاہر فل الحال ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ تاہم صدر سیاسی طور پر کافی اکیلے رہ گئے ہیں۔ جیسے جیسے نئی حکومت کی شکل و صورت ابھر کر سامنے آ رہی ہے صدر پرویز مشرف اور ان کے حامیوں کو ان کے مستقبل کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہا ہے۔ پاکستان میں تو ان کے شاید اتنے حامی نہیں رہے لیکن سات سمندر پار سے دو اعلی ترین امریکی اہلکار انہیں اور دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسیوں کو بچانے کی کوشش کے لیئے آن پہنچے تھے۔ کہتے ہیں مشکل میں دوست ہی مدد کو آتے ہیں۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے اور اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ رچرڈ باؤچر یا اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے اس دورے کا بنیادی مقصد سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی حکومت سے یقین دہانیاں حاصل کرنا ہی بتاتے ہیں لیکن تسلسل کی حمایت کرنے والے یہ امریکی صدر کی بھی بچاؤ کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں خدشہ ہے کہ مشرف کے چلے جانے سے اسے خدشہ ہے کہ کہیں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں خلل نہ آ جائے۔ نئی حکومت کے پاس وقت کم ہیں اور لوگوں کی امیدیں بےپناہ۔ صدر اور سو دن کے ایجنڈے کو یہ مخلوط حکومت کیسے آگے لے کر چلتی ہے اس پر سولہ کروڑ عوام کی نظریں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||