عدالتوں کی تالابندی پر مقدمات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب پولیس نے لاہور سمیت صوبے کے دیگر دو اضلاع میں وکلاء کی طرف سے عدالتوں کی تالا بندی کرنے کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔ یہ بات ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حنیف کھٹانہ کی اس رپورٹ میں بتائی گئی ہے جو جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے سات رکنی فل بنچ کے روبرو پیش کی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس میاں نجم الزمان کی سربراہی میں قائم سات رکنی بنچ پنجاب میں مختلف عدالتوں کی تالابندی کے معاملے پر عدالتی کارروائی کررہا ہے۔ ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اس معاملے پر ابتدائی سماعت پر صوبائی انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ عدالتوں کی تالابندی کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ہائی کورٹ کے فل بنچ نےگزشتہ سماعت پر عدالتوں کی تالابندی کے اقدام پر بروقت کارروائی نہ کرنے پر صوبائی انتظامیہ کی سرزنش کی تھی اور کارروائی کےدوران یہ ریمارکس دیئے تھے کہ عدالتوں کی تالابندی جیسا اقدام انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت قابل دست اندازی جرم ہے۔ وکلاء رہنماؤں نے ہائی کورٹ کے ریمارکس پر شدید درعمل کا اظہار کیا تھا اور وکیلوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کمرہ عدالت میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں جس میں فل بنچ نے تالابندی کے معاملے کی سماعت کرنی ہے۔ جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اس معاملے پر سماعت کے لیے دن گیارہ بجے کا وقت مقرر کیا تھا لیکن یہ کارروائی مقرر وقت سے پہلے کر لی گئی۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے فل بنچ کو تحریری جواب کے ذریعے آگاہ کیا کہ عدالتوں کی تالا بندی کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے جن کی تفتیش کے لیے مستعد اور دیانیدار تفتیشی افسرن مقرر کردیئے گئے ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو یہ یقین دہانی کرائی کہ پنجاب بھر کی عدالتوں میں انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کا کوئی واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔ چیف سیکرٹری پنجاب ، ہوم سیکرٹری اور آئی جی پولیس پنجاب نے بھی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے اس بیان کی تائید کی۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے سرکاری افسران کی اس یقین دہانی پر عدالتوں کی تالابندی کے معاملے پر مزید کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔ عدالتوں کی تالابندی کے معاملے کی سماعت کے موقع پر لاہور ہائی کورٹ میں کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور ہائی کورٹ کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ | اسی بارے میں ایمرجنسی - تین نومبر کو وکلاء کا یومِ سیاہ02 November, 2008 | پاکستان ’وکلاء ناکام ہوئے تو ملک کو خطرہ‘15 October, 2008 | پاکستان پارلیمنٹ کے سامنے وکلا دھرنا جاری03 November, 2008 | پاکستان وکلاء جدوجہد جاری رہے گی: کرد03 November, 2008 | پاکستان وکلاء کےدھرنے پر لاٹھی چارج 04 September, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ08 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||