BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 November, 2008, 14:47 GMT 19:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالتوں کی تالابندی پر مقدمات

لاہور ہائی کورٹ(فائل فوٹو)
سماعت کے موقع پر لاہور ہائی کورٹ میں کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے
پنجاب پولیس نے لاہور سمیت صوبے کے دیگر دو اضلاع میں وکلاء کی طرف سے عدالتوں کی تالا بندی کرنے کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔

یہ بات ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حنیف کھٹانہ کی اس رپورٹ میں بتائی گئی ہے جو جمعہ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے سات رکنی فل بنچ کے روبرو پیش کی گئی۔

لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس میاں نجم الزمان کی سربراہی میں قائم سات رکنی بنچ پنجاب میں مختلف عدالتوں کی تالابندی کے معاملے پر عدالتی کارروائی کررہا ہے۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اس معاملے پر ابتدائی سماعت پر صوبائی انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ عدالتوں کی تالابندی کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یقین دہانی
 پنجاب بھر کی عدالتوں میں انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کا کوئی واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔ چیف سیکرٹری پنجاب ، ہوم سیکرٹری اور آئی جی پولیس پنجاب نے بھی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے اس بیان کی تائید کی
اے اے جی حنیف کھٹانہ
چار نومبر کو وکلاء نے لاہور، اوکاڑہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں عدالتوں کی تالابندی کردی تھی جس سے عدالتی کام رک گیا تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ان واقعات پر لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کا فوری اجلاس طلب کیا تھا اور ایک دن کے وقفے کے بعد اس معاملے پر عدالتی کارروائی کرنے کافیصلہ کرتے ہوئے سات رکنی فل بنچ تشکیل دے دیا تھا۔

ہائی کورٹ کے فل بنچ نےگزشتہ سماعت پر عدالتوں کی تالابندی کے اقدام پر بروقت کارروائی نہ کرنے پر صوبائی انتظامیہ کی سرزنش کی تھی اور کارروائی کےدوران یہ ریمارکس دیئے تھے کہ عدالتوں کی تالابندی جیسا اقدام انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت قابل دست اندازی جرم ہے۔

وکلاء رہنماؤں نے ہائی کورٹ کے ریمارکس پر شدید درعمل کا اظہار کیا تھا اور وکیلوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کمرہ عدالت میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں جس میں فل بنچ نے تالابندی کے معاملے کی سماعت کرنی ہے۔

جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے اس معاملے پر سماعت کے لیے دن گیارہ بجے کا وقت مقرر کیا تھا لیکن یہ کارروائی مقرر وقت سے پہلے کر لی گئی۔
اس معاملے پر سماعت کے سلسلہ میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد بھی لاہور ہائی کورٹ بار پہنچ گئے تھے۔

ہائی کورٹ کے ریمارکس
 ہائی کورٹ کے فل بنچ نےگزشتہ سماعت پر عدالتوں کی تالابندی کے اقدام پر بروقت کارروائی نہ کرنے پر صوبائی انتظامیہ کی سرزنش کی تھی اور کارروائی کےدوران یہ ریمارکس دیئے تھے کہ عدالتوں کی تالابندی جیسا اقدام انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت قابل دست اندازی جرم ہے
ہائی کورٹ کے فل بنچ کے سامنے چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل حنیف کھٹانہ کے ہمراہ پیش ہوئے اور عدالتی احکامات کی بابت اپنی رپورٹ پیش کی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے فل بنچ کو تحریری جواب کے ذریعے آگاہ کیا کہ عدالتوں کی تالا بندی کے خلاف مختلف مقدمات درج کیے گئے جن کی تفتیش کے لیے مستعد اور دیانیدار تفتیشی افسرن مقرر کردیئے گئے ہیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو یہ یقین دہانی کرائی کہ پنجاب بھر کی عدالتوں میں انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کا کوئی واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔ چیف سیکرٹری پنجاب ، ہوم سیکرٹری اور آئی جی پولیس پنجاب نے بھی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے اس بیان کی تائید کی۔

لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے سرکاری افسران کی اس یقین دہانی پر عدالتوں کی تالابندی کے معاملے پر مزید کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

عدالتوں کی تالابندی کے معاملے کی سماعت کے موقع پر لاہور ہائی کورٹ میں کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور ہائی کورٹ کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

اسی بارے میں
وکلاء کےدھرنے پر لاٹھی چارج
04 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد