BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2008, 19:43 GMT 00:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پرانی سینیارٹی نہیں مل سکتی‘

جسٹس خواجہ شریف
جسٹس خواجہ کے مطابق انہیں بھی دوبارہ حلف اٹھانے کے لیے پیشکش کی گئی تھی
لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین معزول جج جسٹس خواجہ محمد شریف کا کہنا ہے کہ معزول ججوں کی دوبارہ تقرری کی صورت میں ان ججوں کو پرانی سینیارٹی نہیں مل سکتی۔

وہ بدھ کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جو پانچ نومبر دو ہزار سات کو وکلاء پر ہونے والے تشدد کی مذمت کے لیے بلایا گیا تھا۔

وکلاء نے گزشتہ برس ملک میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ اور اعلی عدلیہ کے ججوں کی معزولی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ بار سمیت ملک کے دیگر حصوں میں احتجاج کیا تھا جس کے بعد وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنا کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

جسٹس خواجہ شریف نے کہا کہ مسلم لیگ نون نے عدلیہ کی بحالی کے معاملے پر ووٹ لیے ہیں لیکن مسلم لیگ نون کے لوگ وکلاء کی ان ریلیوں میں شامل نہیں ہوتے جو ہر جمعرات کو معزول ججوں کی بحالی کے لیے نکالی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے جن ججوں نے دوبارہ حلف اٹھایا ہے ان سے انہوں نے درخواست کی تھی کہ وہ حلف نہ لیں۔ ان کے بقول انہیں بھی دوبارہ حلف اٹھانے کے لیے پیشکش کی گئی تھی لیکن وہ وکلاء تحریک کے ساتھ غداری نہیں کر سکتے۔

جسٹس خواجہ شریف نے مطالبہ کیا کہ ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جنہوں نے گزشتہ سال پانچ نومبر کو لاہور ہائی کورٹ بار میں داخل ہو کر وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پانچ نومبر کو وکلاء کے خلاف درج کیے جانے والے تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ علیحدگی کی جو تحریکیں چل رہی تھیں وہ ختم ہوگئیں ہیں۔

ان کے بقول حکومت کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ جلد از جلد معزول عدلیہ کو بحال کرے کیونکہ جب تک عدلیہ بحال نہیں ہوگی اس وقت تک ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔

اجلاس سے ان وکلاء نے بھی خطاب کیا جن کو گزشتہ برس پانچ نومبر کو لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سے گرفتار کر کے پنجاب کی مختلف جیلوں میں بھیج دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد