BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 December, 2008, 05:48 GMT 10:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آزاد عدلیہ کے بغیر ترقی ناممکن

معزولی کے بعد جسٹس افتخار نے ملتان کا چار بار دورہ کیا
پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا ہے جن ممالک میں حکمران اپنی مرضی کے جج تعینات کریں ان ممالک کا ترقی کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

ملتان میں وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معزول چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ سے ثابت ہوا ہے کہ فردِ واحد کی بالادستی غلط ہے اور قانون کی بالادستی درست ہے۔

قانون کی بالادستی اور تمام اداروں کے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنے میں ہی ملک کے معاشی، سیاسی، معاشرتی اور سکیورٹی کے مسائل کا حل پنہاں ہے۔

جسٹس افتخار نے کہا کہ انہیں امریکی یونیورسٹی کی جانب سے میڈل آف فریڈم وکلاء تحریک کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں اور ان پر دہشتگردی کا الزام لگانا بالکل غلط ہے۔

معزول چیف جسٹس کی آمد سے قبل لاہور، ساہیوال اور راولپنڈی سے کے وکلاء نے معزول ججوں کی بحالی کے لیے نعرہ بازی کی۔ اس دوران موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف نعرہ بازی بھی کی گئی۔

عشائیے سے قبل وکلاء رہنماؤں علی احمد کرد، منیر اے ملک، رشید اے رضوی، لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر انور کمال، پنجاب بار کونسل کے نائب چیئرمین اسلم سندھو اور ملتان، راولپنڈی اور پشاور کے وکلاء قائدین نے تقریب سے خطاب کیا۔

وکلاء مقررین نے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر نو مارچ کے لانگ مارچ سے قبل دو نومبر دو ہزار سات کی عدلیہ بحال نہ کی گئی تو وہ اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر مستقل دھرنا دیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نو مارچ کے لانگ مارچ میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا اور یہ لانگ مارچ پاکستان کا تاریخی لانگ مارچ ثابت ہو گا۔

معزول چیف جسٹس اس عشائیے میں شرکت کے لیے منگل کی شام بذریعہ ہوائی جہاز ملتان پہنچے۔ ایئر پورٹ پر ان کا استقبال سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد اور ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء نے کیا۔ ان کے استقبال کے لیے مسلم لیگ نون کے درجنوں کارکن بھی پارٹی کے سینیئر نائب صدر مخدوم جاوید ہاشمی کی قیادت میں ایئر پورٹ پر موجود تھے۔ پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے اپنے جھنڈے اٹھائے ضلعی رہنماؤں کی قیادت میں معزول چیف جسٹس کا استقبال کیا۔

ملتان آمد پر معزول چیف جسٹس کو سرکاری پروٹوکول دیا گیا اور پنڈال تک پہنچنے کے لیے بلٹ پروف گاڑی فراہم کی گئی۔ اس تقریب میں مؤثر سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات کیئے گئے۔

وکلاء تحریک کے دوران گزشتہ روز معزول چیف جسٹس کا ملتان کا چوتھا دورہ تھا۔ عشائیے کی تقریب سے خطاب کے بعد وہ رات گئے سرکاری بلٹ پروف گاڑی میں ہی بذریعہ سڑک اسلام آباد واپس روانہ ہو گئے۔

اسی بارے میں
ملتان بار، کھوسہ کا نام حذف
27 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد