’سپریم کورٹ کو قربان نہیں کیا جا سکتا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ چند ججوں کی بحالی کے لیے پوری سپریم کورٹ کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے 95 فیصد جج صاحبان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایمانداری کے ساتھ اور آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں تو ایسے ججوں کو کیسے ہٹایا جا سکتا ہے جنہوں نے آئین کے تحت حلف لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 209 کے تحت کسی جج کے خلاف کارروائی تو ہوسکتی ہے لیکن آئین میں ججوں کی بحالی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی طرف سے لگائی جانے والی ایمرجنسی کے بعد جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف لیا تھا اُنہوں نے ملک میں آئین کی بحالی کے بعد دوبارہ حلف لیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک میں سپریم کورٹ میں صرف ایک چیف جسٹس ہوسکتا ہے اور عبدالحمید ڈوگر اس وقت پاکستان کے چیف جسٹس ہے۔ فاروق ایچ نائیک کا کہنا ہے کہ اگر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کر دیا گیا تو ملک میں آئینی بحران پیدا ہوجائے گا۔
وکلاء برادری کی طرف سے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلی عدالتوں کے معزول ججوں کی بحالی کے لیے 9 مارچ کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے کہا کہ سڑکوں میں مظاہرے کرنے سے ججوں کی بحالی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کُرد اور دوسرے وکلاء رہنماؤں کو مذاکرات کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے قبول نہیں کی۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اس لانگ مارچ میں وکلاء کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 9 مارچ سنہ دو ہزار سات کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف پاکستان مسلم لیگ نون کی طرف سے سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے 18 ویں ترمیم کا جو مسودہ حکمراں جماعت کو دیا گیا ہے اس میں ججوں کی تعیناتی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ایک سوال پر کہ اُنہوں نے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بطور چیف جسٹس کی تنخواہ دی تھی اس پر وزیر قانون کا کہنا تھا کہ ججوں کو کنسولیڈیٹڈ فنڈز سے تنخواہ نہیں دی گئی۔ واضح رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدام کے بعد معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے 60 کے قریب ججوں نے حلف نہیں اُٹھایا تھا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ان میں سے متعدد ججوں نے دوبارہ حلف اُٹھا لیا ہے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اس سال مارچ میں ریٹائرہو رہے ہیں جبکہ سردار رضا اُن کے بعد سپریم کورٹ کے سب سے سینیئر جج ہیں۔ سردار رضا نے 3 نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے بعد پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||