BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2008, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈوگرغیرآئینی چیف جسٹس نہیں:بار

جسٹس حمید ڈوگر
قرارداد کے حق میں چھ جبکہ مخالفت میں بارہ ووٹ آئے
پاکستان بار کونسل نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کوغیر آئینی چیف جسٹس قراردینے کی قرارداد مسترد کردی ہے جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدلیہ کی بحالی کے حوالے سے قراردار منظور کر لی گئی ہے۔

پاکستان بار کونسل کا اجلاس سنیچر کو سپریم کورٹ کی عمارت میں اٹارنی جنرل سینیٹر لطیف کھوسہ کی صدارت میں ہوا۔

تین نومبر سنہ دوہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی سی او کے تحت حلف اُُّٹھانےاور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو غیر آئینی چیف جسٹس قرار دینے کی قرارداد سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کُرد نے پیش کی۔ اس قرارداد کے حق میں چھ جبکہ مخالفت میں بارہ ووٹ آئے۔

اس کے علاوہ اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد پیش کی گئی جس میں سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے اور اُن کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

 عبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس نہیں مانتے اور دو نومبر والی عدلیہ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہی ہیں
علی احمد کرد

اجلاس کے بعد اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ انہوں نے دو نومبر سنہ دوہزار سات والی عدلیہ کی بحالی کی بات کی ہے تاہم اس میں یہ شامل نہیں ہے کہ دونومبر والی عدلیہ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہی ہوں گے۔

علی احمد کُرد نے کہا کہ وہ عبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس نہیں مانتے اور دو نومبر والی عدلیہ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہی ہیں۔

چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے میڈیکل کالج میں اپنی بیٹی کے داخلے کے لیے امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ کی آڑ میں نمبر بڑھانے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کیا اس لیے اُنہیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔

وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے جو پاکستان بار کونسل کے رکن بھی ہیں اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر پاکستان کے آئینی چیف جسٹس ہیں اور انہوں نے اپنی بیٹی کو میڈیکل کالج میں داخلے کے سلسلے میں نمبر بڑھانے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بارے میں پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیاں چیف جسٹس کو اس ضمن میں طلب نہیں کر سکتیں۔

اُدھر تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین عابد شیر علی نے صدر آصف علی زردای کو ایک خط لکھا ہے جس میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے بارے میں ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس پندرہ دسمبر کو بلانے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی جائیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کوچیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کے امتحانی پرچوں کی ری چیکنگ کی آڑ میں اضافی نمبر دینے کے معاملے کی تحقیقات سے روک دیا ہے۔

اسی بارے میں
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد